حضرت مصلح موعود ؓ — Page 16
28 27 کی بیٹی ہو اور سزا یہ دوں گا کہ تمہیں پیار کروں گا۔آپ جتنا پیار کرتے تھے تربیت کا بھی اتنا ہی خیال رکھتے تھے۔جب شروع میں ربوہ بنا تو ہمارے گھر کچی اینٹوں کے تھے۔گھروں کے ساتھ ہی ایک دود کا نیں بھی تھیں۔ایک دفعہ میں دکان سے کوئی چیز لے کر واپس آ رہی تھی۔آپ نماز پڑھانے جا رہے تھے مجھے دیکھ کر کہنے لگے۔کہاں سے آ رہی ہو۔میں نے کہا بازار سے۔مجھے تو کچھ نہیں کہا لیکن امی سے آ کر کہنے لگے کہ ٹھیک ہے کہ یہ ابھی چھوٹی ہے لیکن دکان پیدا کیلے بھیجنا مناسب نہیں ہے۔آپ ہر انسان کی عزت کرتے تھے اور کسی کو برانہیں سمجھتے تھے۔ایک دفعہ صفائی کرنے والے ایک خاکروب نے آپ کے ایک نواسے کے منہ پر پیار کر لیا۔اس پر بچوں نے اس بچے کو چھیڑا کہ جمعدار نے تمہیں پیار کر لیا ہے اور تم بھی گندے ہو گئے ہو۔جب حضور کو پتہ لگا تو حضور نے اسے بلا کر پوچھا کہ تمہیں جمعدار نے کہاں پیار کیا تھا۔بچے نے گال پر انگلی رکھ کر بتایا کہ اس جگہ۔حضور نے بچے کو اپنے ساتھ چمٹا کر اسی جگہ پیار کیا اور اس طرح بچوں کو یہ سبق دیا کہ کوئی آدمی بھی برا نہیں ہوتا۔آپ کی آواز بہت اچھی تھی۔تلاوت کرتے تھے تو دل چاہتا تھا کہ بس سنتے جائیں۔تقریر ایسی کرتے تھے کہ بس مزہ آ جاتا تھا۔کئی کئی گھنٹے تقریر کرتے اور سننے والے کا دل کرتا کہ یہ تقریر ہوتی رہے۔کبھی ختم نہ ہو۔۱۹۵۴ء کے بعد سے آپ بہت بیمار رہنے لگے تھے اور بہت کمزور ہوتے جا رہے تھے۔ڈاکٹروں کے کہنے اور جماعت کے زور دینے پر آپ علاج کرانے کے لئے ۱۹۵۵ء میں یورپ گئے۔علاج کے علاوہ وہاں احمدی مشنوں کا کام بھی دیکھا اور وہاں کے احمدیوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔علاج سے آپ کو کسی حد تک فائدہ ہوا مگر پوری طرح تندرست نہ ہو سکے اور آخرے اور ۸/ نومبر ۱۹۶۵ء کی درمیانی رات تقریباً دو بجے اللہ میاں نے ہمارے پیارے امام حضرت مصلح موعود کو اپنے پاس بلا لیا۔آپ کی وفات کا پتہ لگتے ہی دور و نزدیک کے ہزاروں احمدی ربوہ آنے شروع ہو گئے۔اگلے روز جماعت نے اکٹھے ہو کر اپنے نئے امام کا انتخاب کیا اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کو اپنا خلیفہ منتخب کر کے ان کی بیعت کی۔۹ نومبر کی شام کو آپ کا جنازہ بہشتی مقبرے لے جایا گیا۔جہاں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث نے بے شمار احمدیوں کے ساتھ آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔آپ کا مزار آپ کی والدہ حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے پہلو میں بنایا گیا۔بچو! ہر وقت دعا کرتے رہنا کہ خدا ہمیں توفیق دے کہ ہم حضرت مصلح موعود کی طرح ( دین حق ) کے خادم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچا پیار کرنے والے ہوں اور یہ بھی دعا کیا کرو کہ ہمارے پیارے خلیفہ کی بہت لمبی عمر ہو اور ہم پیار محبت سے اکٹھے ہو کر ہر کام کریں اور ہمارے خلیفہ جو حکم ہمیں دیں ہم مانیں کیونکہ خلافت میں بہت برکتیں ہیں۔جس طرح درخت کی شاخیں جب تک درخت کے ساتھ لگی رہتی ہیں ہری بھری رہتی ہیں اور جب ان کو درخت سے علیحدہ کر دیں تو وہ سوکھ جاتی ہیں۔اسی طرح جب تک جماعت کے لوگ خلافت کا ساتھ دیتے رہتے ہیں ان کا ایمان تازہ رہتا ہے اور جب کوئی بدقسمت خلافت کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے تو اللہ میاں