حضرت مصلح موعود ؓ — Page 12
20 19 تھے۔لیکن مہاراجہ اور ہندوستان کی حکومت کے ظلم کے آگے بے بس تھے۔حکومت پاکستان نے خیال ظاہر کیا کہ کشمیر کی آزادی کے لئے رضا کاروں کی ایک جماعت چاہئے جو پاکستانی فوج کی مدد کرے۔چنانچہ آپ نے فرقان بٹالین بنائی جو ۱۹۴۸ء سے ۱۹۵۰ ء تک قائم رہی اور احمدی جوانوں نے اس میں بہت جوش سے حصہ لیا اور میدان جنگ میں اپنی فوج کی مدد کی۔ایک بار حضرت مصلح موعود خود بھی محاذ پر تشریف لے گئے جس سے احمدی جوانوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے۔احمدیوں کے اس جہاد کے متعلق رسالہ ” قائد اعظم نے ۱۹۴۹ ء میں لکھا کہ جہاد کشمیر میں مجاہدین آزادی کشمیر کے دوش بدوش جس قد ر احمدی جماعت نے خلوص اور درد دل سے حصہ لیا ہے اور قربانیاں دی ہیں ہمارے خیال میں مسلمانوں کی کسی دوسری جماعت نے ابھی تک ایسی جرات اور پیش قدمی نہیں کی۔“ آپ کو ہر وقت یہ فکر رہتی تھی کہ کسی طرح جماعت زیادہ سے زیادہ ترقی کرے۔اس سلسلہ میں آپ نے ۱۹۳۴ ء میں تحریک جدید کی بنیاد رکھی۔تحریک جدید کے آغاز میں انیس (۱۹) مطالبات تھے جن میں سے کچھ ہم یہاں لکھتے ہیں تاکہ تمہیں بھی اس کا پتہ چل جائے۔د, ایک مطالبہ تو یہ تھا کہ ہر احمدی اقرار کرے کہ وہ صرف ایک سالن استعمال کرے گا۔ضرورت ہو تو نیا لباس بنوائے ورنہ یونہی فضول خرچی نہ کرے۔سنیما وغیرہ نہ دیکھے۔تمام احمدی تین سال کے لئے اپنا روپیہ بیت المال میں جمع کرائیں جو تین سال کے بعد انہیں واپس کر دیا جائے گا۔ہ لوگ احمدیت کی ترویج کے لئے اپنے خرچ پر باہر جائیں۔اسی طرح عارضی طور پر بھی اپنے آپ کو وقف کریں۔جن لوگوں کی پنشن ہو چکی ہے وہ بھی دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔اسی طرح ڈاکٹر، وکیل وغیرہ بھی جماعت کے لئے خود کو وقف کریں۔احمدی بچے مختلف قسم کی تعلیم حاصل کریں۔کوئی ڈاکٹر بنے ،کوئی وکیل، کوئی الجھینئر، کوئی ریلوے میں جائے ، کوئی فوج میں۔غرض ہر پیشے میں احمدی آجائیں۔اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔کوئی احمدی بیکار نہ رہے۔مزدوری کریں۔اخبار یا کتا ہیں بچھیں۔کچھ کریں لیکن بیکار نہ بیٹھیں۔اگر اپنے ملک میں کام نہیں ملتا تو باہر چلے جائیں۔جو لوگ معذور ہیں چل پھر نہیں سکتے۔کچھ کام نہیں کر سکتے وہ بیٹھے بیٹھے دعائیں کرتے رہیں۔احمدیوں نے تحریک جدید کے مطالبات کو بہت خوشی اور جوش سے پورا کیا۔یہ مطالبات پہلے صرف تین سال کے لئے تھے لیکن بعد میں کچھ مطالبات کو مستقل کر دیا گیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خود بھی تحریک جدید پرسختی سے عمل کیا۔شروع شروع میں تو اتنا کام ہوتا تھا کہ آپ کبھی رات کو ایک بجے سے پہلے نہیں سوئے۔بعض دفعہ تو تین چار بجے صبح تک کام کرتے رہتے۔آپ نے ذاتی طور پر تحریک کے فنڈ میں ایک لاکھ اٹھارہ ہزار چھ سو چھیاسی روپے چندہ دیا اس کے علاوہ اپنی قیمتی زمین بھی تحریک جدید کو دے دی۔