حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ

by Other Authors

Page 17 of 18

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 17

31 30 کر وہ قادیان گئے اور دو آنے حضور کو نذرانے کے طور پر پیش کئے۔حضور نے جزاکم کپور تھلوی کی سیرت کا نقشہ یوں بیان کرتے ہیں: ” جماعت کپورتھلہ کے وہ بزرگ (جو جماعت مذکور کے بانیوں میں سے اللہ کہہ کر دو آنے لے لئے۔چند دن بعد نظام الدین صاحب رخصت ہونے لگے تھے ) اور جنہوں نے اپنے عشق و وفا کا وہ عملی ثبوت دیا کہ خدا کے برگزید و مسیح موعود حضور نے فرمایا۔ٹھہرو! اندر سے جا کر سات یا آٹھ روپے حضور لائے اور میاں جی علیہ الصلوۃ والسلام نے جنت میں اپنے ساتھ ہونے کا وعدہ دیا۔میری تحقیقات میں کپورتھلہ کی جماعت کے آدم حضرت منشی ظفر احمد صاحب تھے اور ان کے اخلاص اور عملی زندگی نے دوسروں کو شیدائے مسیح موعود کر دیا اور پھر یہ کہنا مشکل ہو گیا کہ کون نظام الدین کو عنایت فرمائے۔(( رفقاء) احمد جلد چہارم ص 124) اور حضور کی معیت کے الفاظ تو ان لوگوں کے حق میں ہمیشہ پورے ہوتے رہے پہلے ہے اور کون پیچھے۔ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں بے نظیر اور واجب التقلید تھا۔اللہ اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی وفات سے قبل کی رؤیا اس پر گواہ ہے۔تعالیٰ ان سب پر اپنے رحم و کرم کے بادل برسائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ " آپ لوگ اس دنیا اور آخرت میں خدا تعالی کے فضل وکرم سے میرے ساتھ مقامات دے اور ہمیں ان کی عملی زندگی کی توفیق۔جماعت کپورتھلہ کے مخلصین کے ہوں گے۔“ نام مکتوبات بہت کم ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عشق ومحبت کے یہ پروانے ذرا فرصت پاتے تو قادیان پہنچ جاتے اور خط و کتابت کی نوبت ہی نہ آتی۔جہاں حضرت جاتے یہ ساتھ جاتے۔“ 66 (بحوالہ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر پنجم) اہلیان کپورتھلہ نے جہاں مالی قربانی کی اعلیٰ مثال قائم کی وہاں اس قربانی کے بدلے میں دو گنا چوگنا اضافہ جو خدا نے قربانی کرنے والوں سے کیا ہے اسی دنیا میں اپنے امام کے ہاتھوں پورا ہوتے بھی دیکھ لیا۔اس کی ایک مثال یوں ہے: میاں جی نظام الدین احمدی ساکن کپورتھلہ نہایت غریب آدمی تھے۔پیدل چل حضرت منشی ظفر احمد به عین قلب دید جنت الفردوس اندر سایه دیوار دوست (حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے اپنے دل کی آنکھ سے جنت الفردوس کو اپنے دوست کے سائے میں پالیا )