حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 6
9 8 97 سال ہوئی۔آپ نے اپنے والد صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی اور انتہائی مخلص ، فدائی خادم، ماہر لسانیات، قانون گو، بزرگ اور خدا رسیدہ انسان تھے۔حضرت مسیح موعود کے اس دعویٰ کو کہ عربی زبان ام الالسنہ ہے، ثابت کرنے کے لئے ہرممکن تحقیق فرمائی۔حضرت خلیفہ المسح الرابع ( حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب ، حضرت منشی صاحب کے صاحبزادے تھے السلام سے محبت اور تعلق کا باعث کتاب برا این احمد یہ تھی۔براہین احمدیہ جب جن کی پیدائش پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود مبارکباد کا محل تحریر فرمایا تھا اور چھپی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا ایک نسخہ حاجی ولی اللہ صاحب کو محمداحمد “ کا نام عطا فر مایا اور لمبی عمر کی دعا دی، آپکی وفات 28 مئی 1993 کو بعمر بھیجا جو کپورتھلہ میں مہتم بندوبست تھے۔وہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے رشتہ داروں میں سے تھے۔وہ کتاب اپنے ساتھ اپنے وطن قصبہ سرادہ ضلع میرٹھ لے گئے۔وہاں جب حضرت منشی صاحب کی ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے وہ کتاب آپ کو پڑھنے کے لئے دے دی۔آپ اس کتاب کو پڑھا کرتے اور عش عش کر اٹھتے اور اس کی فصاحت و بلاغت پر فریفتہ ہو گئے اور اسی چیز نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عاشق بنا دیا۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام رحمہ اللہ نے جلسہ سالانہ 2 198ء کے خطاب میں آپ کی علم لسانیات میں غیر معمولی سے محبت ہو گئی۔ایک دفعہ آپ کسی کام سے لدھیانہ گلیاس دوران حضرت مسیح مہارت اور عربی زبان کی تاریخی خدمات پر آپ کو خراج تحسین پیش فرمایا تھا اور آپ کی موعود علیہ السلام بھی لدھیانہ ٹھہرے ہوئے تھے اور آپ کی حضور سے ملاقات علم لسانیات کی مہارت کو اس علم کے ماہرین کے ہم پلہ بلکہ ان سے برتر قرار دیا تھا اور ہوگئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس ملاقات کے بعد آپ کی قادیان میں خطبہ جمعہ یکم جنوری 1993ء میں آپ کو مقام کے لحاظ سے رفقاء حضرت مسیح موعود علیہ آمد و رفت عام ہوگئی۔آپ نے کئی دفعہ حضور سے عرض کیا کہ بیعت لے لیں۔السلام میں شمار فرمایا۔آپ لمبا عرصہ امیر جماعت ہائے احمد یہ ضلع فیصل آبادر ہے اور آپکے لیکن حضور نے انکار فرما دیا کہ مجھے حکم نہیں۔مگر جب حضور نے بیعت کا اعلان فرمایا تو حضرت منشی صاحب و حضرت محمد خان صاحب اور حضرت منشی اروڑا خان بعد آپکے لیے مکرم محترم شیخ مظفر احمد صاحب اب یہ خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔) بیعت صاحب کے نام ایک خط لکھا کہ آپ بیعت کے لئے کہا کرتے تھے مجھے اذن الہی ہو چکا ہے۔اس محل کے مطابق مذکورہ رفقاء کرام نے لدھیانہ پہنچ کر حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا سلسلہ احمدیہ سے بیعت اور حضرت مسیح موعود علیہ بیعت کی۔