حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ

by Other Authors

Page 5 of 18

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 5

7 6 آپ کے چچا حافظ احمد اللہ صاحب جن کے پاس آپ رہتے تھے، نے اپنی آپ کی کوئی کتاب پڑھی جاتی یا آپ کی فلمیں خوش الحانی سے پڑھتے۔عصر، مغرب وفات سے قبل اپنی جائیداد جو بہت کثیر تھی آپ کے حق میں لکھ دی تھی۔مگر اپنے والد اور عشاء کی نمازیں وہیں ادا کرتے اور رات گئے گھروں کو واپس جاتے۔غرضیکہ صاحب کے توجہ دلانے پر کہ اس پر حق اس بچی کا ہے جو پہلے ہی سے بے اولاد ہے اور تمام لوگ عشق و محبت کے بندے تھے اور آپس میں بے نظیر ہمدردی اور محبت رکھتے اس طرح اس کی مزید دل شکنی ہوگی ، اس تحریر کا کاغذ چاک کردیا اور تمام جائیداد اپنی تھے۔اگر کسی دن کوئی شخص محفل میں شریک نہ ہوتا تو اس کے گھر پر جا کر خیریت دریافت کی جاتی۔یہ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ کا نقشہ خدا کے فرستادوں سے محبت کا نتیجہ تھا۔چی کے نام کروادی۔(بحوالہ ( رفقاء ) احمد جلد چہارم ص 5) ریاست کپورتھلہ میں رہائش کے دوران آپ نے عدالت میں اپیل نویسی التیار کر لی۔اس زمانہ میں سرکار کی طرف سے ایک ہی شخص کو اپیل نویسی کا حق ہوتا حضرت منشی ظفر احمد صاحب کو شعر ونحن سے بھی دلچسپی تھی۔کپورتھلہ میں شعر وسخن تھا اس لئے ذریعہ معاش کے طور پر آپ کو معقول آمدنی ہو جاتی تھی۔اور ویسے بھی کا بڑا چرچا تھا اور وہاں مشاعروں کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا تھا۔اسی طرح کے ایک آپ تحریر میں بہت مشاق اور ماہر تھے اس لئے آپ کا نام بطور اپیل نویس مشہور تھا۔مشاعرہ میں آپ بھی شامل ہوئے اور ایک غزل پڑھی۔لیکن جب حضرت مسیح موعود نہ صرف یہ بلکہ مجسٹریٹ آپ سے سررشتہ داری ( ہیڈ کلرک) کا کام بھی لیتا تھا اور کی خدمت میں بازیاب ہونے کا شرف حاصل ہوا شعر گوئی ترک کر دی۔آپ کے آپ کی بجائے اور شخص اپیل نویسی کا کام کر لیتا تھا۔اس کا فائدہ آپ کو یہ ہوتا تھا کہ بیٹے حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں نے بچپن میں ایک غزل ملا زمت والی پابندی نہ تھی اور جب جی چاہتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت لکھی اور والد صاحب کے ایک دوست کو سنائی۔اس نے یہ بات آپ تک شکایت کے رنگ میں پہنچادی۔آپ نے اس وقت تو مجھے کچھ نہ کہا مگر کچھ عرصہ بعد ایک دن حضرت منشی اروڑا صاحب اسی عدالت میں نقشہ نویس تھے اور حضرت محمد خان چلتے چلتے مسکراتے ہوئے میرے چہرے پر نظر ڈالی اور فرمایا " تم شعر کہا کرتے ہو؟“ صاحب کا دفتر بھی پاس ہی تھا۔کچہری سے فارغ ہو کر آپ اور حضرت منشی اروڑا میں نے شرم سے آنکھیں نیچی کر لیں! پھر خودہی فرمایا: "ہم تو ا سے لغو کام سمجھ کر چھوڑ صاحب، حضرت محمد خان صاحب کے دفتر چلے جاتے اور دوسرے احمدی احباب بھی چکے ہیں۔تمہیں اگر شوق ہو تو سلسلہ احمدیہ کی خدمت کیلئے شعر کہ لیا کرو“ اپنے کاروبار زندگی سے فارغ ہو کر وہاں آ جاتے اور پھر حضرت مسیح موعود کا ذکر ہوتا ، میں حاضر ہو جاتے تھے۔(( رفقاء ) احمد جد چہارم ص 9)