حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ

by Other Authors

Page 4 of 18

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 4

5 4 آپ کا قد چھوٹا ، چیرہ با وقار اور بہت خوبصورت ، آنکھیں بڑی بڑی اور بہت اولا دعطا کی تھی۔روشن، پیشانی بہت اونچی ، داڑھی چھوٹی چھوٹی اور خوش نما جسم سڈول اور مضبوط ، آواز آپ کے تینوں بھائی حافظ قرآن تھے۔آپ خود حافظ تو نہ تھے مگر قرآن شریف بہت شہر میں تھی۔قرآن شریف بہت خوش الحانی سے پڑھا کرتے تھے۔چہرے پر خوب یاد تھا اور حافظہ کی مدد سے ہر مضمون کی آیت پڑھ دیتے تھے۔آپ نے مکتبی تعلیم ہمیشہ مسکراہٹ رہتی۔رفتار میں تیزی تھی ، کلام میں روانی تھی اور بہت پاکیزہ زبان کے تحت زبان فارسی اور درسی کتب کی تکمیل کی۔جن اساتذہ سے آپ نے درسی کتب بولتے تھے۔محاورات میں ادب کا خاص خیال رکھتے تھے اور مشکل الفاظ سے اجتناب سیکھیں انہی سے کھیل بھی سیکھا۔ایک دفعہ آپ کے والد صاحب نے آپ کے استاد کرتے تھے۔یوں بات کرتے کہ دل میں اتر جاتی۔سے کہا کہ تم اپنے شاگردوں کے ساتھ کھیل میں بھی مصروف ہو جاتے ہو یہ وقار کے خاندان میں سب سے پہلے آپ نے اور پھر آپ کے والد مشتاق احمد عرف محمد خلاف ہے۔تو اس نے جواب دیا کہ نو جوانوں کو ادھر ادھر جانے سے روکنا حفظ اخلاق ابراھیم صاحب نے بیعت کی۔لیکن تھوڑے عرصہ بعد آپ کے والد صاحب کا انتقال کے لئے ضروری ہے اور اس نیت سے میں انہیں سبق کے بعد بھی مصروف رکھتا ہوں تا ہو گیا اور یہ پتہ نہیں کہ انہیں حضور علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی تھی کہ نہیں۔اپنے والد صاحب کی بیماری میں آپ نے ان کی بہت خدمت کی۔جب ان کی کہ ان کے اخلاق میں کوئی انتشار نہ پیدا ہو۔(( رفقاء ) احمد جلد چہارم ص 3) وفات قریب تھی تو انھوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔آپ نے ان سے پوچھا کہ زمانہ طالبعلمی میں آپ کی ذہانت کے متعلق ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ آپ کیا مانگ رہے ہیں؟ فرمانے لگے کہ تم نے میری بڑی خدمت کی ہے میں دعا کرتا آپ کو کسی مقدمہ کے سلسلہ میں کچھری جانا پڑا۔وہاں پر ایک تحریر کسی نے خط طغری ہوں کہ خدا تعالیٰ تمہیں بہت اولاد دے۔خدا کی شان ہے کہ آپ کے تینوں بھائی بے اولا در ہے مگر آپ کو خدا تعالیٰ نے اس قد را ولا ددی کہ آپ کی وفات کے وقت آپ کی (عربی رسم الخط میں فنکارانہ اور خوبصورت تحری) میں لکھ کر تھانا پیش کی ہوئی تھی۔سب لوگ اس کو پڑھنے میں ناکام رہے مگر آپ نے اس تحریر کو بالکل صحیح پڑھ دیا۔جس سے لوگوں پر اولاد بشمول ہوتے وغیرہ پچھیں ہو چکی تھی۔آپ نے دوشادیاں کی تھیں۔پہلی شادی محترمہ سیدہ بدر النساء صاحبہ سے ہوئی آپ کی ذہانت کا کافی اثر پڑا اور کچہری میں آپ کو ملازمت کی پیشکش بھی ہوئی مگر تھی جن کے والد میرٹھ کے تھے اور بالآخر مکہ چلے گئے تھے۔دوسری شادی محترمہ آپ کی والدہ صاحبہ نے زمیندار گھرانے سے تعلق اور خداد کشائش رزق کے باعث پول بیگم صاحبہ آف بڑھانہ سے ہوئی۔خدا تعالیٰ نے دونوں بیویوں سے آپ کو ملازمت کی اجازت نہ دی۔