حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ

by Other Authors

Page 3 of 18

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 3

3 له 2 ایسے ہی دیوانوں کا ایک مسکن ریاست کپورتھلہ میں بھی تھا جو مسیح الزمان پر پہلے ( حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی یوم وفات 20 اگست 1941 ء ہے۔آپ کی سے ہی نظر جمائے بیٹھے تھے کہ کب اشارہ ہو اور وہ تن من دھن کی بازی لگا کر اس مسیحا عمر دراز کے متعلق جو روایات ملتی ہیں ان کے مطابق آپ نے 78 یا 80 برس کی عمر کے قدموں میں ڈھیر ہو جائیں اور کب وہ شمع روشن ہو کہ یہ پروانے اس کے گرد جمع پائی۔لہذا اس حساب سے آپ کی تاریخ پیدائش 63-1862 عیسوی معلوم ہوتی ہے) ہو جائیں اور رضائے باری تعالیٰ اور رضائے مہدی دوراں کے وارث ٹھہریں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اعلان بیعت کے ساتھ ہی امَنَّا وَ صَدَّقْنَا کا اور آپ کوئی دو وجود ہیں ؟ حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب فرماتے ہیں: (( رفقاء ) احمد جلد چہارم ص 4) " حضرت منشی ظفر احمد صاحب میری تحقیقات میں کپورتھلہ کی جماعت کے آدم مثالی نمونہ بننے والے ، تا حیات اپنے مسیح کے در کے غلام بن کے رہ جانے والے ہیں۔عین عنفوان شباب میں انہوں نے براہین احمدیہ کو پڑھا اور اس نور سے حصہ اور کہیں چین نہ پانے والے وجودوں میں سے ایک وجود حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا لیا۔وہ ضلع مظفر نگر یو پی کے اصل باشندے تھے۔اور ایک شریف معزز اور عالم ہے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت اور عشق نے یہ مقام عطا فر ما دیا کہ ”ہم خاندان کے فرد تھے۔خاندان میں شرافت کے علاوہ دینداری کا ہمیشہ چرچا رہا۔اس لئے کہ خاندان مغلیہ کے عہد میں اس خاندان کے تذکرے آتے ہیں۔یہ قانون اور پھر اہالیان ریاست کپورتھلہ جو ہر دم قربانی کے لئے تیار رہتے تھے، کے متعلق گو کہلاتے تھے۔قرآن کریم کو حفظ کرنے کا بھی شوق اس خاندان میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ خود حضرت منشی صاحب کے والد صاحب، دادا صاحب، پردادا صاحب سب حافظ قرآن تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے حضرت منشی صاحب کو قرآن مجید کے حقائق و معارف کے ایک چشمہ جاریہ پر لا کر کھڑا کر دیا اور وہ سیراب ہوتے رہے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشاق میں سے تھے۔اہل بیت حضرت مسیح حضور نے دنیا اور آخرت میں ساتھ ہونے کی بابت بھی فرمایا۔خاندان حضرت منشی ظفر احمد صاحب ریاست کپورتھلہ سے تعلق کی وجہ سے کپور تھلوی کے نام سے مشہور تھے۔کپور حملہ آپ کا وطن نہ تھا بلکہ آپ وہاں اپنے چا حافظ احمد اللہ موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت ان کے ایمان کا جزو اعظم تھا۔۔۔بزرگان ملت صاحب ( جو قصبہ سلطان پور ریاست کپورتھلہ میں تحصیلدار تھے اور ان کے اولاد نہ تھی) کے پاس رہتے تھے جو آپ کو اپنے بیٹے کی طرح پیار کرتے تھے۔آپ 1280 ساتھ محبت رکھتے تھے جو دراصل خود ان کی اس محبت کا عکس تھا۔“ ھجری میں پیدا ہوئے اور 1360 ھجری میں آپ کی وفات ہوئی۔حضرت خلیفہ اول، حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور دوسرے ( رفقاء) کبار کے (( رفقاء ) احمد جلد چہارم ص 38)