حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 13
23 22 السلام کے سوائے کوئی نہ کھولے میں نے وہ خط حضور کے سامنے رکھ دیا۔حضور نے مسابقت فی الخیرات کا اعلیٰ نمونہ فرمایا منشی صاحب کیا ہے۔میں نے عرض کیا حضرت اس خط پر لکھا ہوا ہے کہ سوائے حضور کے اس خط کو کوئی نہ کھولے۔اس لئے حضور ہی اس کو کھول کر پڑھیں۔حضرت ایک اور روایت منشی ظفر احمد صاحب یہ بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ اوائل زمانہ مسیح موعود علیہا السلام نے محمد مجھے واپس دیتے ہوئے فرما یا منشی صاحب آپ ہی اس کو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لدھیانہ میں کسی ضروری اشتہار کے چھپوانے کے لئے ساٹھ روپے کی ضرورت پیش آئی۔اس وقت حضرت صاحب کے پاس اس رقم کا پڑھیں :” ہم اور آپ کوئی دو ہیں ؟“۔اتنا واقعہ بیان فرما کر حضرت منشی صاحب رونے لگ گئے اور روتے روتے انتظام نہیں تھا اور ضرورت فوری اور سخت تھی۔منشی صاحب کہتے تھے کہ میں اس وقت کوئی دو ہیں؟“۔فرمایا ! کہاں خدا کا پیارا مسیح اور کہاں یہ گنہگار۔اور نوازش یہ کہ مجھے فرمایا: ”ہم اور آپ حضرت صاحب کے پاس لدھیانہ میں اکیلا آیا ہوا تھا۔حضرت صاحب نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ اس وقت یا اہم ضرورت در پیش ہے کیا آپ کی جماعت اس رقم کا انتظام کر سکے گی۔میں نے عرض کیا حضرت انشاء اللہ کر سکے گی اور میں جا کر روپے لاتا ہوں۔چنانچہ میں فوراً کپورتھلہ گیا اور جماعت کے کسی فرد سے ذکر کرنے کے بغیر اپنی بیوی کا ایک زیور فروخت کر کے ساٹھ روپے حاصل کئے اور حضرت صاحب کی خوش بختی (( رفقاء) احمد جلد چہارم صفحه 42) حضرت منشی ظفر احمد صاحب اپنے قادیان کے ایک قیام کے دوران اپنی خوش خدمت میں لاکر پیش کر دیئے۔حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور جماعت بختی کا ذکر ان الفاظ میں فرماتے ہیں کہ حضور بہت محبت سے پیش آئے۔خود اندر سے کپورتھلہ کو ( کیونکہ حضرت صاحب یہی سمجھتے تھے کہ اس رقم کا جماعت نے انتظام کیا کھانا لا کر کھلایا۔دس بارہ دن قادیان رہا۔اس وقت حافظ حامد علی خادم ہوتا تھا اور کوئی ہے ) دعا دی۔چند دن کے بعد منشی اروڑا صاحب بھی لدھیانہ گئے تو حضرت صاحب نہ ہوتا۔جہاں اب مہمان خانہ اور مفتی صاحب کا مکان ہے اس کے پاس بڑی چوڑی نے ان سے خوشی کے لہجہ میں ذکر فرمایا کہ منشی صاحب اس وقت آپ کی جماعت کچی فصیل ہوتی تھی۔66 نے بڑی ضرورت کے وقت امداد کی۔“ (( رفقاء) احمد جلد چہارم صفحہ 79) منشی صاحب نے حیران ہو کر پوچھا۔حضرت کون سی امداد؟ مجھے تو کچھ پتہ