حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 5 of 21

حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 5

7 6 الصلوة والسلام نے حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی کے گھر (جو بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق و محبت السه دار البیعت کہلایا) بیعت لینے کا آغاز فرمایا اور سب سے پہلے حضرت حکیم الامت مولانا حضرت منشی محمد اروڑا خان صاحب کپور تھلوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق نورالدین خلیفہ اسیح الاول نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔اسی دن بیعت کی سعادت صادق تھے۔شمع محمدی کے گرد پروانوں کی طرح گھومنا آپ کی زندگی کا مقصد تھا۔اپنا سب حاصل کرنے والوں میں حضرت منشی محمد اروڑا خان صاحب بھی شامل تھے۔( رفقاء) کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت میں نثار کر دیا تھا۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ کپورتھلہ میں سب سے پہلے آپ کو بیعت کی سعادت حاصل ہوئی۔السلام سے کس قدر محبت اور عشق تھا اس کو ناپنے کے لئے الفاظ کا کوئی پیمانہ نہیں ہے۔تاہم آئندہ آنے والے واقعات اور مالی قربانی کی مثالیں آپ کے وفا اور عشق کی سچی داستان کی ۳۱۳ رفقاء میں شمولیت کا اعزاز حضرت منشی محمد اروڑا خان صاحب ۳۱۳ رفقاء میں شامل تھے اور آپ کا ساتواں نمبر تھا۔غمازی کریں گی۔آپ کے عشق اور محبت کا اظہار خود آقا نے بھی کیا ہے۔آقا کی شفقت ومحبت کے بھی آپ مورد ٹھہرے ہیں۔۳۱۳ رفقاء میں شمولیت ایک بہت بڑا اعزاز ہے کیونکہ ان اسماء کے تحریر کرنے کے سونے کا تحفہ یعنی پونڈ پیش کرنے کی خواہش پورا کرنا الله بعد آنحضور ﷺ کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ مہدی معہود کدعہ ( قادیان) نامی بستی سے نکلے گا اور وہ دور دور سے دوستوں ( رفقاء) کو جمع کریگا جنکی تعداد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عشق اور والہانہ محبت کا ایک یہ انداز بھی آپ کی زندگی میں ہمیں نظر آتا ہے کہ باوجود معمولی تنخواہ دار ہونے کے آپ کی خواہش تھی کہ میں شاملین بدر (۳۱۳) کے برابر ہوگی اور ان کے اسماء مع انکی سکونت وغیرہ کے ایک کتاب حضور کی خدمت میں سونے کا تحفہ یعنی پونڈ پیش کروں۔آپ نے اس مقصد کی تکمیل کے میں درج کریگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجام آتھم میں اپنے ۳۱۳ ( رفقاء) کا ذکر لئے کس قدر محنت، کوشش اور محبت شامل محنت کی ہوگی اس قصہ کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی تحریر کر کے اس پیشگوئی کو پورا کر دیا۔اس پیشگوئی کے الفاظ کو شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی کی زبانی سنئے : نے اپنی کتاب جواہر الاسرار میں تحریر کیا ہے۔مجھے وہ نظارہ نہیں بھولتا اور نہیں بھول سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب انجام آتھم میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۳۱۳ وفات پر ابھی چند ماہ ہی گذرے تھے کہ ایک دن باہر سے مجھے کسی نے آواز دے کر بلوایا اور ( رفقاء) کے تذکرہ میں سات نمبر سے لیکر انمبر تک جماعت کپورتھلہ کے مخلص اور خدائی خادمہ یا کسی بچے نے بتایا کہ دروازہ پر ایک آدمی کھڑا ہے اور وہ آپ کو بلا رہا ہے۔میں باہر نکلا تو منشی اروڑے خان صاحب مرحوم کھڑے تھے۔وہ بڑے تپاک سے آگے بڑھے مجھے جاں نثاروں کا ذکر فرمایا ہے۔جس کی ترتیب یوں ہے۔حضرت منشی محمد اروڑا خان صاحب، مصافحہ کیا اور اس کے بعد انہوں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں حضرت میاں محمد خان صاحب، حضرت منشی ظفر احمد صاحب، حضرت منشی عبدالرحمن صاحب نے اپنی جیب سے دو یا تین پونڈ نکالے اور مجھے کہا کہ یہ اماں جان کو دے دیں اور یہ کہتے اور حضرت منشی فیاض علی صاحب کپور تھلوی۔اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو۔ہی ان پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ وہ چیخیں مار کر رونے لگ گئے اور ان کے رونے کی