حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 8 of 21

حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 8

13 12 حضرت منشی اروڑے خان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لگا تمہارا مرزا کپورتھلہ آ گیا ہے۔معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب فرصت ملی تو وہ اطلاع دینے کا وقت نہ تھا اس لئے آپ بغیر اطلاع کے ہی چل پڑے منشی ساتھ جو عشق کیا وہ اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چہرہ دیکھا تھا اروڑے خان صاحب نے یہ خبر سنی تو وہ خوشی میں ننگے سر اور پاؤں اڈے کی طرف بھاگے۔کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔یہ دل کی آنکھ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مگر چونکہ خبر دینے والا شدید ترین مخالف تھا اور ہمیشہ احمدیوں سے تمسخر کرتا رہتا تھا۔ان کا صداقت کا مشاہدہ کا نتیجہ تھا جس کے مقابل پر دوسرے دلائل کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔بیان تھا کہ تھوڑی دور جا کر مجھے خیال آیا کہ بڑا خبیث دشمن ہے اس نے ضرور مجھ سے ہنسی میں تو ان کے منہ کو بھوکا تھا کی ہوگی۔چنانچہ مجھ پر جنون سا طاری ہو گیا اور یہ خیال کر کے کہ نہ معلوم حضرت مسیح قمرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رفقاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنے آقا موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے بھی ہیں یا نہیں ، میں کھڑا ہو گیا اور میں نے بے تحاشہ برا بھلا و مرشد کے ساتھ والہانہ محبت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت منشی اروڑے خان صاحب کی کہنا شروع کر دیا کہ تو بڑا خبیث اور بدمعاش ہے، تو کبھی مرا پیچھا نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ بنسی نا قابل فراموش مثال دیتے ہوئے رقمطراز ہیں: کرتا رہتا ہے۔بھلا ہماری قسمت کہاں کہ حضرت صاحب کپورتھلہ تشریف لائیں۔وہ کہنے ان پاک نفس بزرگوں کا دل بلکہ ان کے جسموں کا رواں رواں حضرت مسیح موعود لگا آپ ناراض نہ ہوں اور جا کر دیکھ لیں ، مرزا صاحب واقعہ میں آئے ہوئے ہیں۔اس علیہ السلام کی محبت سے لبریز تھا۔مجھے خوب یاد ہے اور میں اس واقعہ کو کبھی نہیں بھول سکتا کہ نے کہا تو پھر میں دوڑ پڑا۔مگر پھر خیال آیا کہ اس نے ضرور مجھے دھوکا دیا ہے۔چنانچہ پھر میں جب ۱۹۱۴ ء میں مسٹر والٹر آنجہانی جو آل انڈیا وائی ایم سی۔اے کے سیکرٹری تھے اور سلسلہ اسے کو سنے لگا کہ تو بڑا جھوٹا ہے ہمیشہ مجھ سے مذاق کرتا رہتا ہے۔ہماری ایسی قسمت کہاں احمدیہ کے متعلق تحقیق کرنے کے لئے قادیان آئے تھے۔انہوں نے قادیان میں یہ خواہش کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے ہاں تشریف لائیں۔مگر اس نے پھر کہا کہ کی کہ مجھے بانی سلسلہ احمدیہ کے کسی پرانے (رفیق) سے ملایا جائے۔اس وقت منشی اروڑا منشی صاحب وقت ضائع نہ کریں مرزا صاحب واقعہ میں آئے ہوئے ہیں۔چنانچہ پھر اس صاحب قادیان میں تھے۔مسٹر والٹ کو منشی صاحب مرحوم کے ساتھ ( بیت ) مبارک میں ملایا خیال سے کہ شاید آہی گئے ہوں میں دوڑا پڑا مگر پھر یہ خیال آجاتا کہ کہیں اس نے دھوکا ہی گیا۔مسٹر والٹر نے منشی صاحب سے رسمی گفتگو کے بعد یہ دریافت کیا کہ آپ پر جناب مرزا نہ دیا ہو۔چنانچہ پھر اسے ڈانٹا آخر وہ کہنے لگا مجھے برا بھلا نہ کہو اور جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھ صاحب کی صداقت میں سب سے زیادہ کس دلیل نے اثر کیا۔منشی صاحب نے جواب دیا لو، واقعہ میں مرزا صاحب آئے ہوئے ہیں۔غرض میں کبھی دوڑتا اور کبھی یہ خیال کر کے کہ مجھے مذاق ہی نہ کیا گیا ہو۔میری یہی حالت تھی کہ میں نے سامنے کی طرف جو دیکھا تو نے سب سے زیادہ اثر کیا وہ حضرت صاحب کی ذات تھی۔جس سے زیادہ سچا اور زیادہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لا رہے تھے۔اب یہ والہانہ محبت اور محبت کا رنگ دیانت دار اور خدا پر زیادہ ایمان رکھنے والا شخص میں نے نہیں دیکھا۔انہیں دیکھ کر کوئی شخص لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔یقیناً بہت ہی کم لوگوں کے دلوں میں۔“ یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔باقی میں تو ان کے منہ کا بھوکا تھا۔مجھے زیادہ دلیلوں کا کہ میں زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں ہوں اور زیادہ لمبی دلیلیں نہیں جانتا مگر مجھے پر جس بات (الفضل ۲۸ اگست ۱۹۴۱ء) علم نہیں ہے۔یہ کہ کر منشی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یاد میں اس قدر بے