حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 10 of 21

حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 10

17 16 بدل کر قادیان جانا یہ سب آپ کے عشقیہ انداز تھے اور پھر رقم بچا بچا کر حضور کے قدموں عادت تھی کہ حضرت صاحب کے پاس ہمیشہ بیٹھے پیر دباتے رہتے تھے۔(الحکم ۲۸ مارچ میں لا ڈالتے جبکہ خود انتہائی درویشانہ زندگی بسر کرتے۔۱۹۳۴) حضرت منشی اروڑا خان صاحب کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضرت منشی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جلسہ سالانہ کے وقت میں احمدیوں کے لئے ساتھ فدائیت ، محبت اور والہانہ عشق کے یہ انداز یقیناً بارگاہ ایزدی میں ان کے بلندی ایک امتحان رہتا ہے۔کسی کی بیوی بیمار ہو جاتی ہے اور کسی کا بچہ بیمار ہو جاتا ہے۔یہ لوگ درجات کا باعث ہو نگے۔جلسے میں آنے سے روکنا چاہتے ہیں، یہ امتحان ہوتے ہیں مگر ہم کبھی ان کی پرواہ نہیں کرتے منشی جی ! اتنی جلدی اور کبھی نہیں رکھتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عشق و محبت کو خود حضرت منشی صاحب ان الفاظ حضرت سید عزیز الرحمن صاحب بریلوی مہاجر قادیان جنہیں حضرت منشی صاحب کو میں بیان کرتے ہیں: قریب سے دیکھنے اور ان کی رفاقت سے حصہ ملا وہ بیان کرتے ہیں کہ منشی محمد اروڑے خان صاحب کی توند بھاری تھی۔جب ایک کرتا پیٹ پر سے پھٹتا تب دوسرا بناتے تھے۔یہ کوئی د بعض اوقات میری یہ حالت ہوتی کہ میں کپورتھلہ سے بے قرار ہوکر دیوانہ وار آتا اور میری عادت اور معمول ہمیشہ یہ تھا کہ یکہ سے اترتے ہی اگر نماز کا وقت ہوتا تو اپنا کپڑا کنجوسی نہ تھی بلکہ حضرت اقدس سے ایک والہانہ عشق تھا۔جس طرح سے جو کچھ بھی ہو سکتا بچاتے اور حضرت اقدس کے قدموں میں لا ڈالتے تھے۔بيت الذکر) میں رکھ کر سیدھا حضرت کے دروازے پر پہنچتا اور اطلاع کرا کے زیارت کر لیتا تو چین پڑتا۔مجھ پر کئی اوقات ایسے بھی آئے کہ میں آیا اور نیاز حاصل کیا اور واپس جانے (الحکم ۲۸ جنوری ۱۹۳۵) کی اجازت چاہی اس لئے کہ وقت نہیں ہوتا تھا ایسے موقعے پر حضرت اقدس ضرور فرماتے۔دد منشی جی ! اتنی جلدی میں عرض کرتا حضور زیارت ہی کے لئے آیا تھا۔اس سرور کا حضور اقدس کے پاؤں دباتے رہنا حضرت منشی محمد اروڑے خان صاحب حضرت مسیح موعلیہ السلام کے ساتھ عشق رکھتے مزا لیتے علی العموم یہ شعر پڑھتے اور فرماتے کہ ہمارا تو یہی اصول ہے۔در حقیقت بس است یار یکے دل یکے جاں یکے نگار یکے تھے۔اس کا اظہار مختلف اداؤں اور طریقوں سے کرتے تا حضور کی قربت بھی نصیب ہو اور آپ کی خدمت بھی کر سکیں۔آپ خود فرماتے تھے کہ جب ہم قادیان میں آتے تو بیت الذکر ) میں ایسی جگہ کپڑا رکھ دیتے جہاں حضرت اقدس کے قریب بیٹھ سکیں۔نماز ختم ہوتی اور ہم حضور کے پیروں کو لپٹ جاتے۔بعض دفعہ میں آپ کا پیر دبانے کے لئے کھینچ یہ ہمارے مرشد کا حکم ہے لیتا اور بعض دفعہ جو نہی کہ میں ہاتھ بڑھا تا حضرت خود میری طرف پیر کو بڑھا دیتے۔(الفضل یکم نومبر ۱۹۱۹ ء ص ۵) (الحکم ۲۸ مارچ ۱۹۳۴) حضرت منشی ظفر احمد صاحب اطاعت امام کا ایک روح پرور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ایک مرتبہ لدھیانہ جارہے تھے۔ہم کرتار پور سے آپ کے ساتھ ریل میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی بھی بیان کرتے ہیں کہ منشی اروڑا صاحب کی سوار ہو لیے یعنی منشی اروڑ ا صاحب یا محمد خان صاحب اور خاکسار۔حضور انٹر کے درجہ میں