حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 3 of 18

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 3

3 له 2 خبر حضرت مفتی صاحب کے والد کو ملی تو وہ سیالکوٹ پہنچے اور آپ کو بھیرہ واپس لے آئے۔اور وہاں میٹرک میں داخل کرا دیا۔1890ء میں آپ نے میٹرک پاس کر لیا۔آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار سے گھر پر ہی ہوئی۔9 سال کی عمر میں پہلا سفر قادیان تیسری جماعت میں داخل ہوئے اور 15 سال کی عمر میں مڈل پاس کر لیا۔قرآن مجید آٹھ نو سال کی عمر میں محلے کے ایک مولوی اور ان کی اہلیہ سے پڑھ چکے تھے۔صحبت نورالدین 1890ء میں آپ نے انٹرنس کا امتحان پاس کیا اور جموں جا کر ہائی سکول میں بطور مدرس ملازم ہو گئے۔سکول میں جب رخصتیں ہوئیں تو آپ نے قادیان کی (لطائف صادق صفحہ 121) طرف اپنا پہلا سفر کیا۔اس سفر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آپ تحریر فرماتے ہیں: غالبا دسمبر 1890 ء تھا۔سردی کا موسم تھا۔بٹالہ سے میں اکیلا ہی 1888ء میں آپ کے والد محترم آپ کو حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب یکہ میں سوار ہو کر آیا اور بارہ آنہ کرایہ دیا۔حضرت مولانا صاحب (خلیفہ اسیح الاوّل) کے پاس قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنے کے واسطے جموں چھوڑ آئے۔آپ تقریباً 6 ماہ حضرت مولانا صاحب کے پاس جموں میں رہے۔حضرت مولانا نورالدین صاحب سے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر سنتے رہے اور اسی وجہ سے آپ کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہا السلام سے متعلق ایک محسن نکن پیدا ہو گیا۔مولوی نورالدین نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام ایک سفارشی خط دیا تھا۔حضرت کے مکان پر پہنچ کر وہ خط میں نے اُسی وقت اندر بھیجا۔حضرت صاحب فوراً باہر تشریف لائے۔فرمایا : مولوی صاحب نے اپنے خط میں آپ کی بہت تعریف کی ہے۔مجھ سے پوچھا ایک دفعہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جموں گئے تو حضرت مفتی صاحب کو کیا آپ کھانا کھا چکے ہیں۔تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر اندرون خانہ تشریف لے گئے۔“ دیکھ کر حضرت خلیفہ اول سے آپ کے حالات دریافت فرمائے اور پھر درخواست کی کہ مفتی صاحب کو ان کے ساتھ سیالکوٹ بھیج دیا جائے جہاں یہ سکول میں داخل ہو کر میٹرک کرلیں اور قرآن مجید کا ترجمہ مجھ سے پڑھتے رہیں۔حضرت مولوی صاحب نے اجازت دے دی اور آپ مولوی صاحب کے ساتھ سیالکوٹ چلے گئے۔جب یہ کے ساتھ سیر پر تشریف لے گئے۔(ذکر حبیب صفحہ 4) اگلے دن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے لئے گئے تو آپ بھی حضور