حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 16
29 28 جہاز کے دونوں طرف لٹک رہی ہیں۔آپ لوگوں کے لئے ہیں۔پھر اس نے نام بنام چھوٹی عمر میں تھی کہ مجھے خیال ہوا کہ میں تحقیقات کروں کہ دنیا میں سب سے زیادہ سچا کشتیوں کے نمبر بتائے اور سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ ایسے موقعہ مذہب کونسا ہے۔سواس خیال سے کئی ایک مذاہب میں داخل ہوئی اور دعائیں کرتی پر اپنی اپنی کشتیوں میں بیٹھ جائیں۔پھر یہ کشتیاں جہاں کہیں آپ لوگوں کو لے جائیں رہی۔مگر کہیں سے میری تشفی نہ ہوئی۔یہاں تک کہ میری شادی ہوئی۔بچے ہوئے آپ کی قسمت۔ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔پوتے ہوئے۔مگر میری اس دعا کی قبولیت مجھے نصیب نہ ہوئی۔آج سے دو سال قبل کپتان کے اس لیکچر کو سننے کے بعد میں اپنے کمرے میں آیا اور اس خطرے سے ایک رات میں اسی آرام کرسی پر لیٹی ہوئی اس خیال میں رونے لگی کہ میں نے عمر بھر خدا بچنے کے لئے اللہ کریم سے گڑ گڑا کر دعا کی۔اسی رات میں میں نے خواب میں دیکھا تعالیٰ سے دعا کی وہ بھی قبول نہ ہوئی اور میں غم میں روتے روتے سوگئی۔تب خواب کہ ایک فرشتہ میرے کمرے میں کھڑا ہوا ہے اور مجھے انگریزی میں کہتا ہے۔میں ایک فرشتہ دیکھا۔اس نے کہا بیگم غم نہ کرو۔تمہاری دعا سنی گئی۔ادھر دیکھو وہ کون۔” صادق یقین کرو یہ جہاز سلامت پہنچے گا جارہا ہے۔جب میں نے کھڑکی سے اس طرف نگاہ کی تو مجھے ایک مشرقی شخص دکھائی اس خوشخبری کو پاکر میں نے تمام مسافروں کو اور کپتان کو اطلاع دی اور ایسا ہی دیا۔پھر اس فرشتے نے کہا۔یہ شخص یہاں یعنی امریکہ میں آ رہا ہے۔جو مذہب وہ ہوا۔ہمارا جہاز ساحل انگلستان پر سلامتی سے پہنچ گیا۔کئی جہاز ہمارے سامنے آگے لائے گا وہ سچا ہے۔تم اس کو قبول کرو۔دیکھیے، دائیں بائیں ڈو ہے۔ان جہازوں کی لکڑیاں پانی میں تیرتی ہوئی دیکھیں۔میں اس خواب کے بعد کئی دن تک اس کھڑکی سے ہر آنیوالے کو دیکھتی رہی۔مگر خداوند تعالیٰ نے ہمارا جہاز سلامت پہنچا دیا۔“ آخر مجبور ہو کر نا امیدی کو پاس بلا لیا۔آج اتفاق سے میں پھر کسی ارادے کے ایک بوڑھی عورت (لطائف صادق صفحہ 131,130) بغیر یہاں بیٹھی تھی اور آپ کو جاتے ہوئے دیکھا۔میری آنکھوں میں وہ خواب پھر گیا۔میں پہچان گئی کہ جو شخص خواب میں دکھایا گیا وہ آپ ہیں۔پھر اس نے ( دین حق ) قبول کیا۔“ ایک دفعہ امریکہ کے مشہور شہر شکاگو کی ایک سڑک سے گزر رہا تھا۔ایک چھوٹا بچہ آیا اور کہا کہ آپ کو میری ماں بلاتی ہے۔میں بچے کے ساتھ ان کے گھر پہنچا جہاں سمندر کا جوش ساکن ہو گیا ایک بوڑھی عورت نے استقبال کیا۔خاطر و مدارات کے بعد اس نے کہا کہ میں ابھی (لطائف صادق صفحہ 137,136) ایک بحری سفر میں ایک دن سمندر بڑے جوش میں آ گیا۔سمندر کی لہروں نے