حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 15 of 18

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 15

27 26 یہ جنگ یورپ کا زمانہ تھا۔جہاز چلتے چلتے یکدم ایک ایسی جگہ ٹھہر گیا جہاں پہلے کہ جہاز ٹھہر جائے گا اور میں آپ سے مل سکوں گا۔اس لئے یہ دو پونڈ مٹھائی کے ہیں کبھی نہیں ٹھہرا تھا۔میں نے اس خیال سے کہ جنگ کا زمانہ ہے ممکن ہے اس جگہ رکھ لیں۔“ فی الحقیقت دعا ایک بڑی ہی عجیب و غریب چیز ہے جو ہر مشکل موقع پر ہمارے کچھ احمدی دوست ہوں، میں نے کپتان جہاز سے کہا کہ مجھے خشکی پر جانے کی اجازت دیں لیکن اس نے صاف انکار کر دیا اور کہا آپ یہاں ہرگز نہیں اتر سکتے۔کام آتی ہے۔“ ہم تو ویسے ہی یہاں محض سمندر کی حالت معلوم کرنے کے لئے اتفاقاً کھڑے ہو گئے مفتی صاحب بچے ہوئے گیہوں ہیں ہیں اور نہ اس سے پہلے یہاں آج تک کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔تھوڑی دیر میں میں نے دیکھا کہ ایک کشتی جہاز کی طرف آ رہی ہے میں نے کپتان سے کہا کہ یہ کشتی یہاں کیوں آرہی ہے۔جب یہاں اترنے کی اجازت ہی الطائف صادق صفحہ 66,65) 1917ء میں جب کہ جنگ عالمگیر اپنے پورے شباب پر تھی۔حضور خلیفہ المسیح نے مجھے حکم دیا کہ ( دعوت دین حق ) کے لئے انگلستان جاؤ۔عورتوں نے حضور کی خدمت میں عرض کی حضور سمندری سفر خطرے سے خالی نہیں؟ کپتان نے کہا مجھے پتہ نہیں کہ کیوں آ رہی ہے۔پاس آئے تو حالات کا علم ہو۔نہیں۔لوگ گیہوں کی طرح پس رہے ہیں۔اگر حضرت مفتی صاحب کو ابھی روک لیا جب کشتی جہاز کے قریب آئی تو میں نے پہچانا کہ اس میں ہمارے بھائی حاجی جائے تو بہتر ہے۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ گیہوں چکی میں پسنے کے عبدالکریم صاحب تھے۔انہوں نے کسی طرح سن لیا تھا کہ میں فلاں جہاز سے لئے ڈالے جاتے ہیں۔مگر ان میں سے بھی کچھ اوپر رہ جاتے ہیں جو نہیں پیتے۔تو یہ انگلستان جارہا ہوں اور فلاں وقت جہاز یہاں سے گذرے گا۔ان کو معلوم تھا کہ مفتی صاحب بچے ہوئے گیہوں مہیں پسنے والے نہیں۔جہاز یہاں نہیں ٹھہرے گا۔پھر بھی وہ ساحل پر آگئے تھے۔لیکن جب جہاز جزیرہ کے جب ہمارا جہاز بحیرہ روم میں داخل ہوا تو جہاز کے کپتان نے جہاز کے تمام سامنے آ کر اچانک ٹھہر گیا تو وہ فورا کشتی لے کر جہاز کے پاس آگئے۔کپتان نے ان مسافروں کو اوپر ڈیک پر بلایا اور ایک تقریر کرتے ہوئے کہا۔یہ سمندر جس میں ہم کو دریافت حال کے لئے اوپر آنے کی اجازت دی خیر وہ مجھ سے ملے اور ادھر ادھر کی داخل ہوئے ہیں جرمن جہازوں سے بھرا پڑا ہے۔اور معلوم نہیں کہ کب ہمارا جہازان باتوں کے بعد جب رخصت ہونے لگے تو یہ کہ کر دو پونڈ میری جیب میں ڈال دیے کہ کے نشانے سے ڈوب جائے۔اگر ایسا ہوا تو جہاز کے ڈوبنے سے پہلے ایک سیٹی بجے مجھے کچھ مٹھائی آپ کے ساتھ کے لیے لانی چاہیے تھی مگر مجھے تو اس کا وہم بھی نہ تھا گی۔چنانچہ کپتان نے سیٹی بجا کر سنائی۔پھر کہا کہ جب یہ سیٹی بجے تو یہ کشتیاں جو