حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 33 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 33

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ کہ آپ بھی ساتھ چلیں۔تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 413) 33 اس طرح حضور کی معیت میں سفر کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ٹرین کا سفر تھا گاڑی رکتی تو آپ تیزی سے جاتے مستورات کی خیر خبر لے آتے اور آکر حضور علیہ السلام کو مطلع کرتے اس سرگرمی پر حضور نے خوشنودی کا اظہار فرمایا کہ: آپ سفر میں بہت ہشیار ہیں“ اس سند پر گویا آپ کی قسمت میں سفر لکھ دیئے گئے۔بعد کی زندگی میں اعلائے کلمہ حق کے لئے ملک میں اور بیرون ملک بہت سے سفر کئے۔سفر و حضر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے قریب سے قریب تر رہنے کا شوق تھا۔اس سال کے اواخر میں اپنے دوست مولوی محمد صادق اور ایک طالب علم خان بہادر غلام محمد صاحب کے ساتھ قادیان آئے ان دو احباب نے بیعت کا شرف حاصل کیا۔حضرت اقدس علیہ السلام قادیان سے ٹرین پر لاہور تشریف لے جا رہے تھے ، آپ نے بھی سفر میں ہمراہی کی سعادت پائی۔آپ نے 1895ء میں ایف اے کا امتحان پرائیویٹ طور پر پاس کر کے بی اے کی تیاری شروع کر دی۔بی اے میں آپ نے انگریزی، عربی اور عبرانی مضامین رکھے۔امتحان قریب آیا تو تیاری کے لئے چند دن کی رخصت لے کر قادیان۔آئے حضرت اقدس علیہ السلام نے آپ کو اُس کمرے میں ٹھہرایا جو ( بیت ) مبارک اور حضور علیہ السلام کی قیام گاہ کے درمیان شمالی جانب ہے اور جس میں ( بیت ) مبارک کی طرف ایک کھڑکی کھلتی ہے، اسے بیت الفکر کہتے ہیں۔لیکن امتحان دینے سے قبل ہی آپ نے جموں کی ملازمت ترک کر دی اور لاہور منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔اس غرض کے لئے بزرگوں سے مشورہ کیا تو سب نے اس تبدیلی کو پسند کیا، کیونکہ لاہور میں تعلیمی ترقی اور دیگر بہت سی ترقیوں کے امکان اور مواقع زیادہ تھے۔جب آپ نے اپنے اس ارادہ کا ذکر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے کیا تو آپ نے بھی لاہور کو ترجیح دی۔مگر پسندیدگی کی وجہ مختلف بتائی اور وہ وجہ یہ تھی کہ لاہور جموں کی نسبت قادیان سے زیادہ قریب ہے۔جب کبھی چھوٹی موٹی رخصت