حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 276
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 276 سرانجام دیتے رہے۔اس دوران انہیں جماعت احمدیہ کے عقیدہ ء وفات مسیح کا علم ہوا۔1931ء میں وہ قادیان تشریف لے گئے اور سیدنا حضرت خلیفہ اسیح ثانی کی خدمت میں باریاب ہوئے۔حضور نے اپنے دستخطوں سے اپنی ایک تصویر انہیں مرحمت فرمائی جو ان کی مشہورِ زمانہ کتاب اللہ اکبر میں شامل ہے۔اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں : ترجمہ : ” ڈاکٹر جر مانوش اور ان کی بیگم 1931ء میں قادیان گئے۔ان کی مہمانداری کے لئے سلسلہ کی طرف سے حضرت مفتی صاحب اور ان کی ولندیزی بیگم کی ڈیوٹی لگائی گئی۔مفتی صاحب نے ڈاکٹر جر مانوش کو جماعت کے عقائد سے آگاہ کیا۔وہ خاص طور پر جماعت کے وفات مسیح کے عقیدہ کی تفصیل جاننا چاہتے تھے اور جب کشمیر میں ان کی قبر کی بات سنی تو کشمیر میں ان کی قبر کی زیارت کے لئے بھی گئے۔چنانچہ ڈاکٹر جر مانوش نے اپنی کتاب میں مسیح اول کی محلہ خانیار سرینگر میں واقع قبر کی تصویر اور مسیح ثانی کے مزار مبارک قادیان کی تصاویر ایک ہی صفحے پر اکٹھی شائع کی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دُعا کرتے ہوئے جو لوگ کھڑے ہیں ان میں مفتی محمد صادق کی جوانی کی شبیہ نمایاں ہے۔مفتی محمد صادق صاحب کی بیگم صاحبہ مسز جر مانوش کو حضرت صاحب کے گھر والوں سے ملوانے کے لیے لے گئیں۔بیگم جرمانوش کا کہنا ہے کہ اگر اسلام ان شرائط کے ساتھ چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے اور شوہر وہ انصاف روا رکھ سکتا ہے جو امام جماعت احمدیہ نے روا رکھا ہے تو اسلام کا یہ عقیدہ مغرب والوں کے لیے قابل اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔" میرے نانا جان کی پیاری یا دیں محتر مہامہ المیہ علی صاحبہ نے جو حضرت مفتی محمد صادق کی نواسی اور حضرت خلیفہ مسیح اول کی پوتی ہیں اپنے نانا جان کی یادیں قلم بند کی ہیں جنہیں قدرے اختصار کے ساتھ درج کیا جارہا ہے: