حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 22 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 22

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 22 خبر مجھے دی گئی اور آپ کی سچائی مجھ پر ظاہر کی گئی اور اس کے قبول کرنے کی مجھے تو فیق بخشی گئی۔فالحمد لله ثم الحمد لله تحديث بالنعمة از مفتی محمد صادق صاحب ص 4) اس زمانے کی حضرت حکیم صاحب کی شفقتوں کو یاد کرتے ہوئے مفتی صاحب لکھتے ہیں : ” جب میں چھوٹا بچہ تھا چودہ پندرہ برس کا ہوں گا تو مجھے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کے لئے جموں بھیج دیا گیا۔۔۔حضرت حکیم صاحب مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے اور مجھے اپنے بیٹوں کی طرح رکھتے تھے ان کے میرے ساتھ طرز عمل سے عام لوگ یہی سمجھتے تھے کہ میں ان کا بیٹا ہوں۔(لطائف صادق مرتبه شیخ محمد اسمعیل پانی پتی ص5) جموں میں چھ ماہ قیام کیا۔اس مختصر عرصے میں جو تعلق قائم ہوا وہ استاد شاگرد سے بڑھ کر باپ بیٹے کی طرح تھا۔آپ ساری عمر ایک مودب بیٹے کی طرح حضرت مولانا نورالدین صاحب کی عزت کرتے تھے۔تحریر میں آپ کے نام کے ساتھ ابی المکرم لکھتے تھے۔جموں سے واپسی پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے ساتھ سیالکوٹ تک آئے اور پھر واپس بھیرہ پہنچ گئے۔بھیرہ میں تعلیم آپ کے والد صاحب نے مزید تعلیم کے لئے علی گڑھ سکول میں داخل کرانے کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے لئے سرسید احمد خان صاحب سے خط و کتابت کی۔انہوں نے جواب دیا کہ اگر حکیم نورالدین صاحب بچے کی لیاقت ، استعداد اور ذہانت کی تصدیق کریں گے تو داخلہ مل جائے گا۔مگر حضرت نے ایسی کوئی سند نہ دی۔داخلہ نہ ملا۔اس طرح ایک سعید فطرت بچے کے لئے علی گڑھ کے دروازے نہ کھلے اُسے تو اللہ تعالیٰ نے قادیان لانا تھا۔(استفاده بدر 18 نومبر 1912ء) علی گڑھ کا ارادہ ترک کر کے بھیرہ سکول میں داخل ہو گئے۔آپ کو اس زمانے کا حضرت حکیم صاحب کی عمومی تربیت کا ایک دلچسپ واقعہ یا درہا۔ایک دفعہ آپ جموں سے بھیرہ آئے ہوئے