حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 23 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 23

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 23 تھے، آپ کے ہاتھ میں ایک کتاب دیکھی۔دریافت فرمایا کہ کون سی کتاب پڑھتے ہیں ؟ عرض کیا مورل ریڈر فرما یا مورل ریڈر کے کیا معنی ہیں؟ آپ نہ بتا سکے اور کہا کہ اساتذہ ہمیں کتاب پڑھاتے ہیں مگر کتاب کے نام کی وجہ تسمیہ اور ترجمہ نہیں پڑھاتے۔فرمایا۔کل پوچھوں گا۔آپ نے اگلے روز بتا یا کہ اس کے معنی ہیں ادب آموز کتاب شاگرد نے اس واقعہ سے الفاظ پر غور وفکر کی عادت اپنائی اور آئندہ اپنے شاگردوں کو کتابوں کے نام کی وجہ تسمیہ بھی بتاتے رہے۔1889ء میں جب کہ آپ ہائی سکول بھیرہ میں زیر تعلیم تھے ایک رات اپنے مکان کی چھت پر سور ہے تھے کہ ایک حیرت انگیز خواب دیکھا۔فرماتے ہیں: میں دیکھتا ہوں کہ ایک ستارہ مشرق سے نکلا اور میرے دیکھتے دیکھتے وہ اُوپر کو چلا جتناوہ آگے بڑھتا ہے اُس کا قد اور روشنی بڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ ٹھیک آسمان کی چوٹی پر پہنچا اس وقت وہ چاند کے برابر بڑا اور روشن ہو گیا وہاں پہنچ کر اُس نے چکر لگانا شروع کیا اُس کے چکر کا ہر دائرہ پہلے سے بڑا اور زیادہ تیز رفتار تھا یہاں تک کہ اُس کا چکر اُفق تک پہنچا جہاں زمین و آسمان ملے ہوئے نظر آتے ہیں۔یہاں اُس کے چکر ایسے روشن اور تیزی کے ساتھ ہوئے کہ اُس کی ہیبت نے مجھے بیدار کر دیا اور میں اُٹھ کر (ذکر حبیب ص 3) بیٹھ گیا۔“ صبح آپ نے یہ رویا اپنے استاد حضرت مولانا نورالدین صاحب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھ کر بھیج دیا۔حضرت مولانا صاحب نے تعبیر بتائی کہ ایسار و یا اس وقت دکھایا جاتا ہے جب کوئی عظیم مصلح ظاہر ہونے والا ہوتا ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے جواب دیا: گا " آپ کا خط ملا جس میں آپ نے رویا کی تعبیر دریافت کی تھی میری طبیعت ان دنوں علیل ہے۔اس واسطے میں توجہ نہیں کر سکتا بشرط یاددہانی میں آپ کو پھر جواب لکھوں (ذکر حبیب ص 3)