حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 200
200 حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 15 فروری 1921ء کو آپ نے عیسائی دنیا کو ایک چیلنج دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائی وفد کو مسجد نبوی میں عبادت کی اجازت دے کر اخلاق اور مذہبی رواداری کی اعلیٰ مثال قائم فرمائی تھی۔آج میں عیسائیوں کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر حوصلہ ہے تو مجھے اپنے گرجا میں نماز Information پڑھنے کی اجازت دیں مگر پادریوں نے صاف انکار کر دیا۔(الفضل 25 / مارچ 1921ء ) پادریوں کے منہ سے انکار کے الفاظ سننا ہی مقصود تھا۔خلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تب آسان نہیں۔تائید و نصرت الہی کی ہوائیں غلام احمد کے غلام کے ساتھ تھیں جو پیغام درویش احمد پر لے کر تیزی سے چل رہی تھیں۔امریکہ میں ایک دفتر معلومات تھا Bureau Washington D۔C جس سے امریکہ کے بارے میں ہر قسم کی معلومات حاصل کی جاسکتی تھیں۔ایک دن مفتی صاحب کو اس دفتر کی طرف سے خط ملا کہ ہمیں اپنے مستقل پتے سے آگاہ کریں ہمارے پاس اسلام کے متعلق معلومات کے لئے بے شمار خطوط آ رہے ہیں ہم انہیں آپ سے پوچھ کے جواب دینا چاہتے ہیں۔اس طرح آسانی کے ساتھ تعارف میں وسعت پیدا ہوئی۔خدا آپ کو بہت ڈگریاں دے گا حضرت مفتی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بی۔اے کا امتحان پاس کرنے کی اجازت چاہی تا ڈگری ہاتھ آجائے۔حضور نے فرمایا: مفتی صاحب! آپ کو ڈگریاں حاصل کرنے کی ضرورت نہیں خدا آپ کو بہت ڈگریاں دے گا۔“ حضرت اقدس عالیشام کی یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ آپ کو امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں سے متعدد ڈگریاں اور اعزاز حاصل ہوئے: • Doctor of Literature, Lincoln Jefferson University Chicago۔• Doctor of Divinity, The College of Divine Metaphysics۔St۔Louis, MO۔Doctor of Orientalistic Sciences, Oriental University of Washington DC۔