حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 190
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 190 احترام کرنے لگے۔ان کی ضروریات کا خیال رکھتے۔نماز پڑھنے کے لئے جگہ بھی دی۔تاہم ایک آزاد پرندے کے لئے یہ حدود و قیود بہت تکلیف دہ تھے۔آپ نے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا: دو جس حالت میں یہ عاجز دن گزار رہا ہے اس کی تفصیل کی سردست ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو آوے سب مبارک ہے۔جس یار کے ہاتھوں اثمار شیر میں کھائے اُس کی خاطر کوئی تلخی اُٹھانا موجب رنج نہیں۔راضی بہ قضا ہوں اور اُس کے فضلوں کا اُمید وار۔دُعاؤں کے واسطے موقع مل رہا ہے۔مقابلہ بہت بڑے لوگوں سے ہے مگر کچھ غم نہیں کیونکہ میرے ساتھ میرا خدا ہے اور خلیفتہ المسیح اور احباب کرام کی دُعائیں ہیں اور بزرگوں کی امداد روحانی ہے۔قریباً ہر شب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام یا خلیفہ اول یا فضل عمر سے ملاقات ہو جاتی ہے۔دن بھر اجنبیوں میں ہوتا ہوں الفضل 29 ابريل 1920 ء ص 7) رات بھر اپنوں میں۔“ حضرت خلیفہ اسیح کی دعائیں اور پر عزم قیادت حضرت خلیفۃ اسیح آپ کی اس حالت اور امریکہ میں داخلے میں رکاوٹ سے رنجیدہ تھے مگر اپنے قادر وتو انا خدا تعالیٰ سے پر امید تھے کہ فتح بالآخرحق کی ہوگی۔ایک تقریر کے دوران آپ نے جلال سے فرمایا: امریکہ جسے طاقتور ہونے کا دعویٰ ہے اس وقت تک اس نے مادی سلطنتوں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی ہو گی۔روحانی سلطنت سے اس نے مقابلہ کر کے نہیں دیکھا اب اگر اس نے ہم سے مقابلہ کیا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ ہمیں وہ ہرگز شکست نہیں دے سکتا کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے ہم امریکہ کے اردگرد علاقوں میں (دعوت الی اللہ ) کریں گے اور وہاں کے لوگوں کو مسلمان بنا کر امریکہ بھیجیں گے اور ان کو امریکہ نہیں روک سکے گا اور ہم امید رکھتے ہیں کہ امریکہ میں ایک دن لا اله الا اللہ محمد