حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 167 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 167

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ یہ سیٹی بجے تو یہ کشتیاں جو جہاز کے دونوں طرف لٹک رہی ہیں آپ لوگوں کے لئے ہیں۔پھر اس نے نام بنام کشتیوں کے نمبر بتائے اور سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ ایسے موقع پر اپنی اپنی کشتیوں میں بیٹھ جائیں پھر یہ کشتیاں جہاں کہیں آپ کو لے جائیں آپ کی قسمت ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔کپتان کے اس لیکچر کو سننے کے بعد میں اپنے کمرے میں آیا اور خطرے سے بچنے کے لئے اللہ کریم سے گڑ گڑا کر دُعا کی۔اُسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے کمرے میں کھڑا ہوا ہے اور مجھے انگریزی میں کہتا ہے : صادق یقین کرو یہ جہاز صحیح سلامت پہنچے گا اس خوشخبری کو پا کر میں نے تمام مسافروں اور کپتان کو اطلاع دی اور ایسا ہی ہوا۔ہمارا جہاز ساحل انگلستان پر سلامتی سے پہنچ گیا۔کئی جہاز ہمارے سامنے آگے پیچھے دائیں بائیں ڈوبے ان جہازوں کی لکڑیاں پانی میں تیرتی ہوئی دیکھیں مگر خداوند تعالیٰ نے ہمارا جہاز سلامت پہنچا دیا۔“ (لطائف صادق) 167 جہاز کے مسافروں سے راہ و رسم بڑھا کر گفتگو میں دینِ حق کے تعارف کا سلسلہ شروع ہو گیا۔کپتان کو Philosophy of Teachings of Islam) اسلامی اصول کی فلاسفی ) پیش کی۔آپ اپنی سرگرمیوں سے خلیفتہ المسیح کو مطلع رکھتے۔الفضل میں آپ کے مکتوب اور رپورٹس شائع ہوتیں جو سب کی دلچسپی اور دُعاؤں کا باعث ہوتیں۔جہاز میں سفر کے چوتھے روز ایک انگریز (الفضل یکم مئی 1917 ء ) نے اسلام قبول کیا جس کا اسلامی نام داؤ درکھا۔28 مارچ کو پانیوں پر سفر کے بعد عدن کے پہاڑ نظر آئے تو ایک خوشی تو خشکی کے قریب پہنچنے کی تھی۔دوسری یہ وہ سرز مین تھی جو حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب تھی۔بے اختیار آپ نے درود پڑھتے ہوئے دُعا کی: