حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 101 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 101

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ وطن میں ایک بے وطن 101 مارچ 1908ء میں حضرت مفتی صاحب کو ایک مقدمہ کے سلسلہ میں بھیرہ جانا پڑا بھیرہ آپ کا وطن تھا وہاں آپ کا گھر تھا باپ دادا وہیں کے تھے اور آپ ایک عرصے کے بعد وہاں گئے تھے مگر آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور قادیان سے ایسی محبت تھی کہ اس عارضی جدائی کو شامت اعمال تصور کیا اور اپنی کیفیت ایک خط میں اس طرح قلم بند کی : یہاں کے حالات میں آپ کو کیا سناؤں اپنے وطن میں ہوں اور پھر بھی وطن سے بہت دور ہوں اہل وطن کے لئے میرا آنا ایک عید بن گیا ہے پر میرا چاند میری آنکھوں سے اوجھل، دوست بہت خوش ہیں کہتے ہیں جمعہ تک یہاں رہو۔کیوں نہ ہو یار کی گلی کا تو کتا بھی پیارا لگتا ہے اور میں تو پھر انسان ہوں۔حضرت امام کی حاشیہ نشینی میں جو کچھ سنا ہوا ہے اور طوطے کی طرح یاد ہے اُن کو سنا تا ہوں باغ باغ ہو جاتے ہیں۔طوطے کی طرح اس واسطے کہ میں بھی ان باتوں کا عالم ہوں عامل نہیں۔اب دوست چاہتے ہیں کہ اس طوطے کو پنجرے میں ڈال دیں۔پنجرے میں پڑنے کو تو میں تیار ہوں پر جس نے قفس قادیان دیکھا ہو اس کو کوئی قفس کیوں کر پسند آوے اس واسطے عنقریب اُڑتا ہوں دار الامان پہنچتا ہوں۔“ تحریک وصیت پر لبیک۔سو فیصد کی وصیت ( بدر 2 اپریل 1908 ء ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب نظام وصیت کی بنیاد رکھی تو حضرت مفتی صاحب نے بھی اپنے امام وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے 27 دسمبر 1905ء کو ایک وصیت لکھ کر اپنے امام کے حضور پیش کر دی۔یہ تحریر مفتی صاحب کی مکمل شخصیت، خلوص ، جذبہ ایمان اور توکل علی اللہ کی عکاسی