حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 102
حضرت مفتی محمد صادق عنی اللہ تعالی عنہ کرتی ہے تحریر فرمایا: 102 ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم - اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له و اشهد ان محمد عبده و رسوله و خاتم النبیین و اشهدان مرزا غلام احمد المسيح الموعود والمهدی المعهود و نبی الله و رسوله و صلوة الله عليه و سلامة اما بعد۔چونکہ زندگی کا اعتبار نہیں کہ موت کس وقت آجائے اس واسطے میں عاجز محمد صادق بن مفتی عنایت اللہ صاحب مرحوم یہ وصیت کرتا ہوں اور خاص و عام کی اطلاع کے واسطے اس کو چھاپ کر شائع کرتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد میرا تمام تر کہ بھی میری وہ سب جائداد منقولہ و غیر منقولہ۔( جن میں اس وقت علاوہ اسباب کے دو مکان سکونتی ہیں ) اور آج کے بعد جو نئی جائداد میں پیدا کروں گا اور وقت موت اپنے ملک میں چھوڑ مروں وہ ساری کی ساری اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآنیہ وغیرہ کے لئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے اشتہار الوصیت مورخہ 20 دسمبر 1905ء میں تحریر فرمایا ہے حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام اور آپ کے جانشین اور انجمن کے سپرد کی جائے جو حضرت حجۃ اللہ علیہ الف الف صلوۃ مقرر ہے۔میری دلی تمنا ہے کہ بعد الموت میری خواب گاہ خدا کے فرستادہ مسیح اور اس کے پاک نفس اصحاب کے ساتھ ہو اور عرصہ آٹھ یا نو سال کا ہوا ہے جب کہ مجھے ایک رؤیا میں بشارت دی گئی تھی کہ میں مرزا صاحب کی قبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں دفن کیا جاؤں گا۔پس اگر میری وفات کہیں باہر ہو تو میرے وارث اور میرے دوست مجھے یہاں لاویں لیکن اگر سلسلہ حقہ احمدیہ کی خدمت گزاری میں مجھے کسی ایسی جگہ کا حکم