حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 92
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ وَثِيَابَكَ فَطَهَّرُه وَالرُّجْزَ فَاهْجُر (74:5,6 ) ( البدر 16 دسمبر 1903ء) ماں سے زیادہ پیار کرنے والا وجود 92 1904ء کی بات ہے مفتی صاحب کو ہلکا ہلکا بخار رہنے لگا۔مدرسہ کے کام کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ ہو سکی تھی۔۔31 دسمبر کو حضرت اقدس علیہ السلام نے جناب مفتی محمد صادق صاحب کی علالت طبع کا حال استفسار کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر دودھ ہضم ہونے لگ جاوے تو بخار اس سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔“ ( بدر 10 جنوری 1905ء ص 5) جنوری، فروری 1905ء میں بھی آپ علیل رہے۔اخبار بدر میں دُعا کا اعلان چھپتا رہا۔حضرت حکیم مولانا نور الدین صاحب کا علاج تھا مگر فائدہ نہ ہوا تو مسیحائے زماں نے خود دوائیں دینی شروع کیں جس دوا سے فائدہ ہوا وہ ایک گولی تھی جو حضور خود اپنے ہاتھ سے بناتے تھے اور روزانہ بنا کر بھیجتے تھے۔آپ کی بیماری میں آپ کی والدہ صاحبہ قادیان تشریف لائی ہوئی تھیں۔انہوں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کی درخواست کی حضور نے فرمایا: ہم تو اُن کے لیے دُعا کرتے ہی رہتے ہیں آپ کو خیال ہو گا کہ صادق آپ کا بیٹا ہے اور آپ کو بہت پیارا ہے۔لیکن میرا دعویٰ ہے کہ وہ مجھے آپ سے زیادہ پیارا ہے۔“ (ذکر حبیب ص 325) بیماری کے ذکر میں ایک اور روایت ہے کہ اس بیماری کی حالت میں ایک وقت تنگی اور تکلیف کا ان پر ایسا وارد ہوا کہ ان کی بیوی مرحومہ نے سمجھا کہ ان کا آخری وقت ہے وہ روتی چیختی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پہنچیں۔حضور نے تھوڑی سی مشک دی کہ انہیں کھلا ؤ اور میں دُعا کرتا ہوں۔یہ کہہ کر اسی وقت وضو کر کے نماز میں کھڑے ہو گئے۔صبح کا وقت تھا۔حضرت مفتی صاحب کو مشک کھلائی گئی اور ان کی حالت اچھی ہونے لگ گئی۔اور تھوڑی دیر میں طبیعت سنبھل گئی۔