حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 83
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 83 پکڑ جاوے مگر قرآن کی تعلیم اور اسلام کے اصولوں کو ہرگز نہ جھٹلا سکے گی۔“ پروفیسر صاحب بعد میں احمدی ہو گئے تھے اور مرتے دم تک دین حق پر قائم رہے اور حضرت مفتی صاحب کے پاس آپ کے خطوط آتے رہے۔(خلاصہ الحکم 6 جون 1908ء) اللہ تعالیٰ نے ان پر اس رنگ میں احسان فرمایا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دورہ آسٹریلیا کے موقع پر ان کے لئے دُعا کی اور بہت اچھے رنگ میں ذکر فرمایا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: یہ ڈاکٹر کلیمنٹ صاحب جو ہیں یہ 1908ء میں ہندوستان آئے تھے اور یہ مختلف جگہوں پر لیکچر دیتے رہے۔نیوزی لینڈ کے رہنے والے تھے اور آسٹرانومی کے ماہر تھے۔لاہور میں جب انہوں نے لیکچر دیئے تو وہاں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو پتہ چلا۔انہوں نے ان کا لیکچر سنا اور اُس کے بعد اُن سے رابطہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وقت لیا اور 12 مئی 1908ء کو پہلی ملاقات ہوئی اور پھر 18 مئی کو دوسری ملاقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وقت لے کے انہوں نے کی اور بڑی تفصیل سے مختلف موضوعات پر سوال و جواب ہوئے۔کائنات کے بارے میں، روح کے بارے میں ، مذہب کے بارے میں، خدا تعالیٰ کے بارے میں تو بہر حال ان سوالوں کی ایک لمبی تفصیل ہے جو ملفوظات میں بھی اور ریویو کے انگریزی حصے میں بھی چھپی ہوئی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اس گفتگو کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عرض کیا۔میں تو سمجھتا تھا کہ سائنس اور مذہب میں بڑا تضاد ہے جیسا کہ عام طور سے علماء میں مانا گیا ہے مگر آپ نے تو اس تضاد کو بالکل اُٹھا دیا ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہی تو ہمارا کام ہے اور یہی تو ہم ثابت کر رہے ہیں کہ سائنس اور مذہب میں بالکل اختلاف نہیں۔پھر ڈاکٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شکریہ ادا کیا اور اس گفتگو کے بعد جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ دو سٹنگر۔(Sittings) ہوئی تھیں ڈاکٹر صاحب کی طبیعت پر جو اس کے اثرات تھے اس کا ذکر حضرت مفتی صاحب نے پھر ایک اور مجلس میں حضور کی خدمت میں کیا۔یہ 23 مئی وفات سے چند دن قبل کا