حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 76 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 76

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 76 مسٹر پگٹ کو حضرت مفتی صاحب نے جو جواب لکھا اُسے حضور نے بہت پسند فرمایا۔آپ نے مسیحیوں کے غلط عقائد کا ذکر کرنے کے بعد لکھا: وو۔۔۔ہمیشہ سے عیسائیوں اور مسلمانوں میں مباحثات ہوتے چلے آئے ہیں اور مسلمان عیسائیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے چلے آئے ہیں کہ یسوع صرف ایک انسان تھا اور وہ اس میں تھوڑے بہت کامیاب بھی ہوتے رہے لیکن تثلیث کی تاریکی روئے زمین پر اس طرح سے پھیلتی ہوئی چلی گئی جیسے برص کا داغ مبروص کے تمام بدن پر۔لیکن اب خدائے غیور و قادر کی غیرت اس جوش میں ہے کہ اُس کے نام کی بے عزتی دنیا میں نہ ہو اور اسی لئے اس حکیم خدا نے رسولوں کے سردار، نبیوں کے خاتم اور ولیوں کے بادشاہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے اپنا ایک نبی مبعوث کیا ہے اور اس کو ایسے معجزات اور خوارق عطا کئے ہیں جن کے سامنے انجیلی مجزات پیچ نظر آتے ہیں۔پس بلحاظ ہمدردی میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے تئیں یا کسی دوسرے انسان کو خدا کہنے کے بڑے اور قابل شرم گناہ سے تو بہ کرو۔۔۔خدا کے اس مسیح موعود علیہ السلام کو مانو جو ان دونوں کا مقدس رسول ہے اور جس کا نام میرزا غلام احمد۔۔۔۔ہے تو یقینا خدا تمہیں بہت سی برکتیں دے گا۔میں ہوں سسیح موعود احمد کا ایک غلام محمد صادق البدر نمبر 4 جلد ایک 12 نومبر 1902ء) (خلاصہ ذکر حبیب صفحہ 106 تا 109 ) 1903ء میں ایک ڈاکٹر چارلس جو عیسائی مذہب کے پیرو تھے امریکہ سے عیسویت پر لیکچر دینے کے لئے لاہور آئے۔حضرت مفتی صاحب کو علم ہوا، وہ تو ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے تھے، اُنہیں ایک مفصل خط لکھا جس میں عیسائی تعلیمات کے بعض حصوں پر عمل کرنے کے مضر نتائج دلائل سے ثابت کئے اور پھر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عالمگیر شریعت کی خوبیاں بیان کر کے لکھا: