حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 49
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ اختلاف کو چھوڑ دو۔ہر ایک قسم کے ہنرل اور تمسخر سے مطلقاً کنارہ کش ہو جاؤ کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دور کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے۔آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے پیش آؤ۔ہر ایک آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دیوے اللہ تعالیٰ سے ایک سچی صلح پیدا کر لو اور اس کی اطاعت میں پیش آجاؤ۔6 49 یہ ایک قدرے طویل پیغام ہے۔ایک دردمند باپ کی طرح محبت بھرے دل سے اپنے بچوں کے لئے صلح و امن کا پیغام دیا ہے جس سے آپ کی اپنے مریدین کے لئے محبت چھلکتی ہے۔فرماتے ہیں: وو یہ میری وصیت ہے اور اس بات کو وصیت کے طور پر یا درکھو کہ ہرگز تندی اور سختی سے کام نہ لینا بلکہ نرمی اور آہستگی اور خلق سے ہر ایک کو سمجھاؤ“ (ذکر حبیب 61,60) بشپ جارج الفریڈلیفر ائے کومسکت جواب 18 مئی 1900ء کو فورمین چیپل لاہور انار کلی لاہور میں بشپ جارج الفریڈ لیفرائے نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ انداز میں تقریر کی۔تقریر کا موضوع معصوم نبی تھا مؤقف یہ تھا کہ قرآن مجید میں لفظ ذنب استعمال کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ کہ وہ گناہ گار تھے۔آخر میں کہا کہ کوئی ہے جو اعتراض کر سکے۔اس لیکچر میں انہوں نے ضعیف روایات اور تفاسیر کی بناء پر حضرت عیسی علیہ السلام کے علاوہ سارے نبیوں کو گنہگار ثابت کرنے کی کوشش کی۔آخر میں کہا کہ کوئی ہے جو اعتراض کر سکے۔سارا مجمع خاموش تھا۔علماءحضرات لاحول ولا قوۃ پڑھتے ہوئے جلسہ سے چل دئے۔صرف ایک عاشق رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر صلیب کا تربیت یافتہ اُٹھا اور جلالی شان سے آنحضور کا دفاع کیا دلائل سے ثابت کیا کہ آپ معصوم نبی تھے جبکہ انجیل خود مسیح کو معصوم نبی نہیں مانتی۔آپ نے حضرت مسیح کا قول دہرایا کہ تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے کوئی