حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 41
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 41 میرے پاس تشریف لائے۔صاحبزادہ محمود احمد اور حضرت مولوی نورالدین صاحب آپ کے ساتھ تھے۔چند اور دوست بھی تھے مگر وہ نیچے گلی میں کھڑے رہے۔چونکہ او پر مکان تنگ تھا۔حضور میرے پاس چار پائی پر بیٹھ گئے اور حالات دریافت فرماتے رہے اور مختلف باتیں ہوتی رہیں۔قریباً ایک گھنٹہ کے بعد حضور نے پینے کے واسطے پانی مانگا۔جو میری بیوی نے پاس کے کمرہ سے پیش کر دیا۔جب حضور پی چکے تو میں نے ہاتھ بڑھایا تا کہ باقی پانی میں پی سکوں۔حضور نے فرمایا۔کیا آپ پئیں گے میں نے عرض کیا۔پیوں گا۔تب حضور نے فرمایا اچھا میں اس میں دم کر کے دیتا ہوں۔حضور نے کچھ پڑھ کر اس میں دم کر کے مجھے دیا اور میں نے پی لیا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ آپ بیمار ہیں اور لکھا ہے کہ بیمار کی بھی دُعا قبول ہوتی ہے۔آپ ہمارے سلسلہ کی ترقی اور کامیابی کے واسطے دُعا کریں۔“ (الحكم 21 تا 28 جون 1943 ء ) عشاء سے فجر ہوگئی 1897ء کی گرمیوں کی ایک رات کا یادگار واقعہ اور مفتی صاحب کا موثر انداز بیان ملاحظه فرمائیے: حضرت نے ایک نہایت ضروری مضمون لکھنا تھا جس کا صبح تک تیار ہو جانا ضروری تھا۔عشاء کے قریب ایوب و صادق کو حکم ہوا کہ حضرت مضمون جلدی جلدی لکھتے جائیں گے جس کا صاف کرنا بھی ضروری ہے اس واسطے ایوب بیگ لکھاتے جائیں گے اور محمد صادق لکھتا جائے گا۔چونکہ حضرت میرے طرز خط کو پسند کرتے تھے اس واسطے یہ فخر مجھے حاصل ہوا۔دنیا دار تو کہا کرتے ہیں: اے روشنی مطبع تو بر من بلاشدی مگر مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں کے طفیل میرے خط کی عمدگی برائے من رحمت شدی والا معاملہ ہو گیا۔عشاء کے بعد ہم اندر والے مکان میں بیٹھ گئے۔دوہری کین روشن کئے گئے۔لکھتے لکھتے فجر ہوگئی موذن نے اللہ اکبر کہا تو حضرت نے قلم رکھا۔ہمارا حال تو یہ تھا کہ خیال ہوتا تھا موذن