حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 37
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ دفعہ حضرت اقدس علیہ السلام علیہ نے مبلغ دو روپیہ حضرت مفتی صاحب کو دیئے اور فرمایا کہ ہم قادیان کی آمد ورفت میں خرچ کریں کیونکہ یہ ایک غریب آدمی نے بھیج کر لکھا ہے کہ کسی ایسی جگہ خرچ فرمانا جہاں مجھے بہت ثواب ہو اس لئے آپ اس کو اس سفر میں خرچ کریں۔“ پگڑی کے کپڑے میں کھانا (رجسٹر روایات نمبر 12 ص 322 تا 327) عنایات خسروانہ کے واقعات اتنے حسین ہیں کہ تبصرہ کی ضرورت نہیں رہتی مفتی صاحب نے لکھا: ”جب میں قادیان سے واپس لاہور جایا کرتا تھا تو حضور اندر سے میرے لئے ساتھ لے جانے کے واسطے کھانا بھجوایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ جب میں شام کے قریب قادیان سے آنے لگا تو حضرت صاحب نے اندر سے میرے واسطے کھانا منگوایا۔جو خادم کھانا لا یا وہ یونہی کھلا کھانا لے آیا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ مفتی صاحب یہ کھانا کس طرح ساتھ لے جائیں گے کوئی رومال بھی ساتھ لانا تھا جس میں کھانا باندھ دیا جاتا۔اچھا میں انتظام کرتا ہوں، اور پھر اپنے سر کی پگڑی کا ایک کنارا کاٹ کر اس میں وہ کھانا باندھ دیا۔“ آموں کی دعوت (ذکر حبیب ص 321) 37 گاہے بگاہے حضور اپنے باغ سے آم منگوا کر خدام کو کھلاتے۔ایک دفعہ عاجز راقم لا ہور سے چند یوم کی رخصت پر قادیان آیا تھا کہ حضور نے عاجز راقم کی خاطر ایک ٹوکرا آموں کا منگوایا اور مجھے کمرہ ( نشست گاہ) میں بلا کر فرمایا کہ: مفتی صاحب یہ میں نے آپ کے واسطے منگوایا ہے کھالیں۔“ میں کتنے کھا سکتا تھا۔چند ایک میں نے کھا لئے اس پر تعجب سے فرمایا۔کہ آپ نے بہت