حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 273
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 273 امریکہ ٹرینگ پر جارہا ہوں واپس آکر شادی کروں گا۔میری ساس نے کراچی آکر نکاح فارم پر دستخط کروالئے اور اس سال یعنی 1956ء میں ولی کے ذریعے میرا نکاح حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے بیت مبارک میں پڑھایا 1957ء میں 13 جنوری کو جب کہ میں کلاس میں بیٹھا ہوا تھا، ٹیلی گرام آیا کہ حضرت مفتی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔مجھے افسوس ہوا کہ اس بزرگ ہستی سے بحیثیت داماد ملاقات نہیں ہو سکی۔اپنے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ تو وفات یافتہ بزرگوں سے ملانے پر قادر ہے میری آرزو پوری کر دے۔ابھی اس دُعا کو تین دن ہوئے ہوں گے کہ خواب میں دیکھا امریکہ میں بہت لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور کسی اہم شخصیت کی آمد کا انتظار ہے۔اچانک وہ شخصیت ٹی وی پر نمودار ہوتی ہے۔ایک نوجوان لڑکا جس کی ابھی داڑھی بھی نہیں آئی تھی سکرین پر ہے اور میں نے پہچان لیا کہ وہ مفتی صاحب ہیں ساتھ ہی موٹے حروف میں لکھا ہوا نظر آیا کہ Minister of Ahmed۔آنکھ کھل گئی تو بہت شکر کیا۔اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ملاقات کروادی بلکہ اُن کا مقام ومرتبہ بھی بتا دیا۔اکتوبر 1957ء میں واپسی ہوئی۔چھ نومبر کو شاد رکھی گئی حضرت خلیفہ المسیح الثانی لاہور گئے ہوئے تھے۔غالباً اُن کے ارشاد پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے شمولیت فرما کر دُعا کروائی۔ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اپنی مصروفیات چھوڑ کر ہم جیسے معمولی لوگوں کی شادی میں تشریف لائیں گے مگر آپ کا بڑہ پین دیکھئے کہ اگلے دن مبارک باد کا خط بھیجا اور لکھا کہ اگر لاہور ضروری کام کے لئے جانا نہ ہوتا تو میں خود حاضر ہوتا اور میری ساس کے لئے لفافے میں -/1500 روپئے بھی بھیجے جو اُس زمانے کے لحاظ سے بہت بڑی رقم تھی۔شادی کے بعد میں نے اپنی ساس سے پوچھا کہ حضرت مفتی صاحب کو میرا خیال کیسے آیا یہ رشتہ کیسے ہوا؟ تسلّی کیسے ہوئی ؟ آپ نے مجھے حضرت مصلح موعود کا ایک خط لا کر دکھایا جس میں حضرت مفتی صاحب کے خط کے جواب میں لکھا تھا کہ :