حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 254
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 254 تمثیلوں میں بیان کرتے تھے ایسا ہی مسیح محمدی بھی اکثر باتیں سمجھانے میں تمثیلوں سے کام لیتے تھے آپ نے اپنے خطاب میں حضرت اقدس علیہ السلام کی اٹھائیس تماثیل بیان فرمائیں۔1947ء کے آغاز میں حضرت مفتی صاحب بیمار ہو گئے اور علاج کے لئے میوہسپتال لاہور میں داخل ہوئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایت کے مطابق کرنل بھر وچہ سے مرض التہاب اور غدہ قدامیہ کا آپریشن کروایا جو خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب رہا۔لاہور کے بہت سے احباب نے آپ کی مزاج پرسی کی۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے بھی ہسپتال تشریف لا کر حضرت مفتی صاحب کی عیادت فرمائی۔1947 ء میں مسلمانوں پر آنے والی مصیبتوں کی وجہ حضرت مفتی صاحب کا اوڑھنا بچھونا دعوت الی اللہ تھا۔اس کی طرف توجہ کی کمی کو مصیبت کا باعث اور توجہ کو ہر مشکل کا حل خیال فرماتے۔1947ء کے حالات میں گھر بیٹھے مسلمانوں پر جو مصیبتیں ٹوٹیں اُن کی وجوہات اور حل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”جہاں تک میں نے غور کیا ہے میرے خیال میں مصیبت مسلمانوں پر اس واسطے آئی ہے کہ انہوں نے اپنے ایک اہم مذہبی فرض ادا کرنے سے غفلت کی ہے اور وہ اہم فرض تھا تبلیغ اسلام کئی سو سال سے مسلمان ہندوستان میں مقیم ہیں مگر انہوں نے اس امر کی طرف کبھی توجہ نہیں کی کہ اپنی ہمسایہ اقوام کو دینِ اسلام کی برکات سے مالا مال کریں۔پس مسلمانوں کو اب چاہیے کہ وہ اپنے اس گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کریں اور آئندہ کے واسطے مصمم ارادہ کریں کہ وہ ہندوؤں کو مشرف بہ اسلام کرنے کے واسطے ہر طرح کی جائز کوششوں میں مصروف رہیں گے۔“ الفضل 7اکتوبر 1947 ص 4) 27 دسمبر 1947ء لاہور میں جلسہ سالانہ پر ذکر حبیب کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے