حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 24
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 24 یہ اُس وقت کی بات ہے جب حضرت اقدس ماموریت کا دعویٰ فرما چکے تھے اور سلسلہ بیعت جاری ہو چکا تھا۔آپ نے فوراً اس خواب کو خود پر چسپاں نہ کیا جس کی وجہ سے مفتی صاحب کی نظروں میں آپ کے مقام و مرتبے میں بہت اضافہ ہوا۔قادیان کا پہلا سفر اور شرف بیعت 1890ء میں آپ نے انٹر پاس کر لیا اور حضرت مولانا نورالدین صاحب کی وساطت سے جموں ہائی سکول میں انگلش کے ٹیچر مقرر ہوئے۔اُسی سال کے آخر میں آپ نے قادیان دارالامان کا پہلا سفر کیا اور بیعت سے مشرف ہوئے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں: 1890ء میں یہ عاجز امتحان انٹرنس پاس کر کے جموں گیا۔اور وہاں مدرسہ میں ملازم ہو گیا۔ایک اور مدرس جو میرے ہم نام تھے ( مولوی فاضل محمد صادق صاحب مرحوم ) میرے ساتھ اکٹھے رہتے تھے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”فتح اسلام، جموں میں پہنچی (غالباً وہ پروف کے اوراق تھے جو قبل اشاعت حضرت مولوی نور الدین صاحب۔۔۔۔کو بھیج دیئے گئے تھے ) اس کتاب میں حضرت صاحب نے پہلی دفعہ بالوضاحت عیسی ناصری کی وفات اور اپنے دعوی مسیحیت کا ذکر کیا۔وہ کتاب میں نے اور مولوی محمد صادق صاحب نے مل کر پڑھی۔اور میں نے اس پر چند سوالات لکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجے۔جن کے جواب کے متعلق حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے اُن دنوں جموں میں تھے مجھے زبانی فرمایا کہ عنقریب ایک کتاب شائع ہوگی۔اس میں ان سب سوالوں کے جواب آجائیں گے۔اس کے بعد اسکول میں کسی رخصت کی تقریب پر میں قادیان چلا آیا۔غالباً دسمبر 1890ء تھا۔سردی کا موسم تھا۔بٹالہ سے میں اکیلا ہی یکہ میں سوار ہو کر آیا۔اور بارہ آنہ کرایہ دیا۔حضرت مولانا نورالدین صاحب۔۔۔۔۔نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام ایک سفارشی خط دیا تھا۔حضرت کے مکان پر پہنچ کر وہ خط میں نے اُسی وقت اندر بھیجا۔حضرت صاحب فوراً باہر تشریف