حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 235
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 235 مارچ1926 ء سے پھر سفروں کا سلسلہ شروع ہوا۔کیمل پور میں 23 مارچ کو امریکہ میں اسلام کے موضوع پر تقریر کی مئی میں دہلی کے جمعیت خلافت کے جلسہ میں حضرت صاحب کو دعوت دی گئی تھی۔آپ کے ارشاد پر حضرت مفتی صاحب نے نمائندگی کی۔انجمن احمد یہ لائل پور ( حال فیصل آباد ) کا جلسہ 28 تا 30 مئی ہوا اس جلسہ میں آپ نے پانچ تقریریں کیں۔جولائی میں سنور اور پٹیالہ کا سفر اختیار کیا۔شملہ میں رومن کیتھولک سے گفتگو 28 راگست کو جماعت احمدیہ شملہ کے جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔9ستمبر شملہ میں غیر از جماعت کی مسجد میں اُن کی دعوت پر فضائل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر تقریر کی۔اسی شام تھیوسوفیکل لاج میں بھی سیرت النبی کے موضوع پر اظہار خیال عقیدت ومحبت کا موقع ملا۔ستمب، اکتوبر کو حضرت مصلح موعود کے ساتھ شملہ جانے کی سعادت ملی جو خدمات آپ کے سپرد ہوئیں اُن کے سلسلہ میں شہر میں خوب گھومنا پھرنا پڑا۔اس سفر کے دوران ایک رومن کیتھولک چرچ کے آرچ بشپ سے دلچسپ گفتگو ہوئی جو افادہ عام کے لئے درج ذیل ہے: حضرت مفتی صاحب : - آپ تاریخ زمانہ مسیح کے بڑے ماہر ہوں گے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یسوع مسیح نے مسیح ہونے کا دعوی کیا تو اس کوٹن کر یہود نے کیا جواب دیا۔آرچ بشپ :۔انہوں نے کہا کہ ہم مسیح کو نہیں جانتے۔وہ مسیح کو ظاہری رنگ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ایسانہ پا کر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔حضرت مفتی صاحب : بے شک ان کا جواب نامناسب اور کافرانہ تھا۔کیا آپ مہربانی فرما کر بتا سکتے ہیں کہ یہ خبر پا کر کہ آنے والا سیح آ گیا ہے اُن کو کیا جواب دینا چاہیے تھا۔آرچ بشپ:۔یہ تو ظاہر ہی ہے کہ اُن کو کہنا چاہیے تھا کہ مسیح آ گیا ہم ایمان لائے۔اور بس ایمان لانا چاہیے تھا۔ایمان میں ہر ایک کی نجات ہے۔