حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 19 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 19

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ درمیان میری پیدائش ہوئی۔صلحاء نے آکر میرے کان میں سب سے اوّل بذریعہ آذان کلمہ توحید کی تبلیغ پہنچائی قوم کے بزرگوں کو القاء ہوا کہ میرا نام محمد صادق ہو۔اس سارے شہر میں، جس میں میں پیدا ہوا، یہ نام مجھ سے قبل کسی کا اُس وقت نہ تھا۔میری پیدائش کئی ایک پاک نفس صلحاء کی دُعاؤں کا نتیجہ تھی۔فالحمد لله ثم الحمد للہ۔عالم بچپن میں اگر مجھے اسباق یاد نہ ہوتے اور اُستاد کی ناراضگی کا خوف ہوتا تو میری دُعا میرے خوف کی دُوری کے سامان پیدا کر دیتی۔اگر میرا کوئی بزرگ یا اُستاد بیمار ہوتا تو میں اس کی صحت کے واسطے دُعا کرتا اور فوراً اُسے صحت پاتے دیکھ لیتا اگر چہ میں اس کا ذکر کسی سے نہ کرتا مگر قبولیت دعا کی خوشی میرے قلب کو اللہ تعالیٰ کی حمد سے بچپن میں ہی پر رکھتی تھی۔فالحمد للہ ثم الحمداللہ۔بہت ہی بچپن کی بات ہے کہ ہمسایہ میں ایک قبیلہ کی عورتوں نے مجھ سے بے جا تمسخر کیا اور مجھے رُلایا اور میں نے اُن کے حق میں بددُعا کی اور وہ سب کی سب ایک لکڑی کے ٹوٹنے سے جس پر وہ بیٹھی تھیں گریں اور زخمی ہوئیں۔نہ صرف مسجد میں جا کر دُعا کرتا بلکہ اپنی ہر خلوت میں، چلتے ہوئے بستر میں لیٹتے ہوئے میں اپنے لئے اور دوسروں کے واسطے متفرق دُعائیں کرتا اور ان کو قبول ہوتے دیکھتا۔“ تحدیث بالنعمه از مفتی محمد صادق صاحب ص 2 تا 4) 19 اس طرح کم عمری سے ہی اپنے خالق و مالک سمیع و بصیر خدا کا چہرہ آپ پر روشن ہونے لگا۔فطری طور پر سچائی اور نور نبوت کی تلاش کا رجحان پیدا ہوا۔دس بارہ سال کی عمر میں جولڑکپن کی بے فکری اور کھیل کود کی عمر ہوتی ہے آپ کی سوچ میں سنجیدگی نظر آنے لگی۔اپنے ساتھی لڑکوں سے ایک دفعہ کہا: ”ہم عجیب زمانے میں پیدا ہوئے ہیں کہ نہ کوئی اس زمانہ میں نبی ہے نہ بادشاہ