حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 165
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ حق پہنچانا ہے۔" 66 (الفضل 10 مارچ 1917 ءص 6 کالم 2) 165 8 مارچ 1917ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے طلباء نے الوداعی پارٹی دی۔9 مارچ کو جمیع احباب کرام ہر دو مدارس کے طلباء اساتذہ، دکاندار ومہمانان اپنے اس مجاہد بھائی کو رخصت کرنے جمع ہوئے دو میل تک دُعائیں کرتے ہوئے ساتھ ساتھ گئے۔یہ ایک عجیب روح پر ورسماں تھا۔دورانِ سفرانبالہ اور ممبئی میں دین حق کی حقانیت بیان کرنے کے لئے کئی جگہ لیکچرز دئے۔22 مارچ کو ساڑھے پانچ بجے شام جہاز سارڈینیا ، جس میں آپ نے سفر کرنا تھا ممبئی سے روانہ ہوا۔اپنی قلبی کیفیت کا اظہار ایک خط میں اس طرح کرتے ہیں: ”میرا دل اللہ تعالیٰ کے شکر سے بھرا ہوا ہے اور میری آنکھیں اس شکریہ میں تر ہیں کہ حضرت محمود کی اولوالعزمیوں کے طفیل اس نابکار نے یہ توفیق پائی کہ محض دین کی خدمت کے لیے خوفناک اور پر خطر سفر کو خوشی سے قبول کروں۔میرے پیارو! میں نے اپنی طرف سے موت کی تیاری کی ہے۔اگر میں الہی رضا مندی کی راہ میں قربان ہو جاؤں تو میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔اور اگر اللہ پاک مجھے اپنی رضامندی کے کسی کام کے سرانجام دینے کے واسطے زندہ رکھے تو میری عرض اس کے حضور یہی ہے کہ وہ مجھے اپنے رحم اور کرم اور غریب نوازی سے اس کام کے بخیر وخوبی سر انجام دینے کی توفیق دیوے۔وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں مجھے دکھایا گیا تھا کہ میں یہ ہمراہی خلیفہ المسیح الثانی لندن بھیجا گیا ہوں اور ہم بخیریت واپس پہنچ گئے ہیں اور ایک بالا خانہ میں مقیم ہیں۔سو وہ بات انشاء اللہ اب پوری ہو رہی ہے۔“ ( مکتوب 22 مارچ 1917 ءخلاصہ از الفضل 27 مارچ1917ء) بحری جہاز سے سفر کرتے ہوئے آپ نے تاحدِ نظر پانی اور اوپر نیلا آسمان دیکھا۔اللہ تعالیٰ کی