حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 164
حضرت مفتی محمد صادق عنی اللہ تعالیٰ عنہ وقف کریں۔“ 164 اس ارشاد پر حضرت مفتی صاحب نے ایک مکتوب میں درخواست پیش کی کہ اگر اس لائق سمجھا جاؤں تو دنیا کے کسی حصے میں بھیجا جاؤں۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے تحریر فرمایا: منظور آپ کی سلسلہ عالیہ کے لئے وقف کی روح درگاہ الہی میں ایسی منظر ہوگئی کہ الہ تعالی نے آپ کو دعوت الی اللہ کے جہاد کے لئے چن لیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فیصلہ فرمایا کہ آپ کو علم احمدیت تھما کر انگلستان روانہ کیا جائے اس زمانے میں اعلائے کلمہ حق کے لئے عیسائیوں کے گڑھ میں جانا بڑی ذمہ داری اور ہمت کا کام تھا مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت یہی تھی کہ کا سر صلیب کا نمائندہ صلیب والوں کے گھر کے اندر جا کر یہ فریضہ ادا کرے۔اُن دنوں عالمگیر جنگ پورے شباب پر تھی۔بعض حلقوں سے یہ آواز اُٹھی کہ سمندری سفر خطرے سے خالی نہیں۔لوگ گیہوں کی طرح پس رہے ہیں۔اگر مفتی صاحب کو ابھی روک لیا جائے تو بہتر ہے۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ گیہوں چکی میں پسنے کے لئے ڈالے جاتے ہیں مگر ان میں سے کچھ اوپر رہ جاتے ہیں جو نہیں پتے تو یہ مفتی صاحب بچے ہوئے گیہوں ہیں اپنے والے نہیں۔قادیان سے روانگی آپ کی روانگی کے وقت قادیان میں خاصا جوش پیدا ہو گیا۔مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے 5 مارچ 1917ء کو آپ کو اور محترم مولوی عبید اللہ صاحب کو الوداعی دعوت دی جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بھی جلوہ افروز تھے۔آپ نے اپنے خطاب میں بیرونِ ملک دعوت الی اللہ کے لئے ہدایات دیتے ہوئے فرمایا: اس بات کو خوب یا درکھیں کہ ان کا کام لوگوں کو حق منوانا اور قبول کروانا نہیں بلکہ