حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 156
حضرت مفتی محمد صادق عنی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیاں حیدرآباد کے رؤسا میں تقسیم کی جارہی ہیں۔“ 156 آپ نے خود بھی نظام دکن کو سلسلہ حقہ سے متعارف کروایا۔اس سفر کے دوران جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کے لئے قادیان تشریف لائے 26 دسمبر کو دوسرے اجلاس کی صدارت کی اور عہد خلافت ثانیہ کے کارنامے کے موضوع پر خطاب فرمایا۔جلسہ کے بعد دوبارہ عازم سفر ہوئے تو حضرت صاحب کے ارشاد کے مطابق آپ کے رفیق سفر حضرت حافظ روشن علی صاحب تھے۔( افضل 16 فروری 1915ء) والدہ صاحبہ کی وفات اس سفر کے دوران آپ کو ایک شدید صدمہ سے دو چار ہونا پڑا۔آپ کی والدہ محترمہ فیض بی بی صاحبہ بھیرہ میں وفات پا گئیں۔انا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔الفضل نے آپ کی والدہ صاحبہ کی وفات پر تعزیت کا نوٹ لکھا: برادرم مفتی صادق صاحب ( جو حیدر آباد دکن میں دعوت الی اللہ فرما رہے ہیں ) کی والدہ ماجدہ نے بھیرہ میں وفات پائی۔ایک چھت نا گہاں آ پڑی مرحومہ ایک نیک بخت صالحہ بی بی تھیں۔سب احمدی احباب ان کا جنازہ غائب پڑھ دیں۔مفتی صاحب کو اپنی والدہ صاحبہ سے بہت محبت تھی اس لئے انہیں سخت صدمہ پہنچنا نا گریز ہے مگر وہ جس کے کام میں لگے ہیں ماں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔یقین ہے کہ ان کے استقلال الفضل 9 فروری 1915ء ص 1 کالم2) میں فرق نہیں آئے گا۔“ کامیابی کا مفہوم آپ حقیقتاً استقلال سے دینی کام میں مصروف رہے۔کامیابی آپ کے قدم چومتی رہی۔آپ نے کامیابی کو جو مفہوم سمجھا تھاوہ آپ کے اس بیان سے ظاہر ہے :