حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 128 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 128

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ جماعت کے نام ایک مکتوب لکھا: ” خدا کے صادق رسول کے صادق مریدو! خدا کی طرف سے سلامتی اور رحمت اور برکت تم پر ہو ایسے وقت میں جبکہ تمہیں اپنے مرشد و ہادی کی جدائی کا صدمہ اُٹھانا پڑا ہے اور تمہارے دل اس صدمہ سے اند و نگیں ہیں۔میرا جی چاہتا ہے کہ تم کو ایک ہمدردی کا خط لکھوں جو تمہارے واسطے تسکین کا موجب ہو۔۔۔۔۔پیارے بھائیو! میرا یہ خط کیا ہے ایک دلی در دکا اظہار ہے۔تیرہ سو سال کے بعد خدا کا نبی دنیا میں آیا۔وہ آیا اور دنیا میں رہا اور دنیا سے چلا بھی گیا۔ہنوز کثیر حصہ مخلوقات کا وہ ہے جس نے اس کو نہ پہچانا اور نہ مانا اور بہتوں نے اس کی طرف توجہ بھی نہ کی اور ایسے بھی ہوئے جنہوں نے اس کی مخالفت کی اس کو دکھ دیا اور اس کی ساری عمر میں بدقسمتوں نے سوائے آزار دہی کے اور کوئی تجویز نہ کی اور ان کے نصیبے میں نہ ہوا کہ وہ خدا کے پیارے سے ایک نیک دُعالے لیتے۔ان لوگوں کی وہ مثال ہے جس کا ذکر حدیث قدسی میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہے گا کہ اے ابن آدم میں مریض ہوا تھا تو میری عیادت کو نہ آیا۔میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو نے مجھے نہ دیا۔میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو نے نہ پلایا۔انسان کہے گا تو رب العالمین ہے۔میں کس طرح تیری عیادت کرتا اور کس طرح تجھے کھانا کھلاتا اور کس طرح تجھے پانی پلاتا۔خدا تعالیٰ کہے گا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا اگر تو فلاں بندے کو کھلاتا اور پلاتا تو اس کھانے اور پینے کو آج میرے پاس پاتا۔معلوم نہیں کہ کس کس طرح بندے کی طرف خدا تعالیٰ اس میں اشارہ کرے گا۔مگر اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے خاص بندوں ، اس کے مرسلین اور مامورین کی عیادت کرنا اور 128