حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 124 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 124

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 124 حضرت اقدس علی شام کے وصال نے اس چہرے کے بھو کے عشاق پر غم کے پہاڑ گرادیئے اس شمع کے پروانوں کے لئے جسمانی فراق کا یہ صدمہ قیامت سے کم نہ تھا۔عشق و محبت ناپنے کا کوئی آلہ نہیں ہوتا البتہ بے ساختہ ادائیں دل کا حال کہتی ہیں۔حضرت اقدس علیہ السلام کچہری میں کرسی پر تشریف فرما ہیں مفتی صاحب کو خیال آیا کہ پاؤں تھک گئے ہوں گے اپنا کوٹ اتارتے ہیں گول ساکشن بناتے ہیں اور پائے مبارک کے نیچے رکھ دیتے ہیں۔حضرت اقدس علیہ السلام جوتا پہنے میں دائیں بائیں کے تکلف میں نہیں پڑتے تو آپ علی سلام کی سہولت کے لئے دائیں جوتے پر سیاہی سے نشان لگاتے ہیں۔یکے پر بیٹھتے ہیں تو دھوپ کے رخ پر خود بیٹھتے تا کہ دھوپ کی تمازت خودسہ لیں۔ہر محفل میں حضرت اقدس علی سلام کے قریب ترین بیٹھنے کی کوشش کرتے تاکہ اللہ تعالی سے مناجات کے لئے ہاتھ اٹھیں تو ہونٹوں کی جنبش سے مانگنے کا سلیقہ سکھ سکیں۔تصویر کھنے لگی تو قدموں میں بیٹھ کر چھڑی کا آخری سرا تھام لیتے ہیں۔عشق میں تعلقِ خاطر کا یہ انداز دل کے سکون کا باعث بنتا ہے ایسے محبوب کا بچھڑنا بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔مگر اللہ ہی ولی اور والی ہے جو غمزدہ دلوں کو تھام لیتا ہے اور مضبوط سہارا بنتا ہے۔حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کے نام درخواست ایسے جذباتی حادثات کے وقت بسا اوقات انسان کو اپنی ذہنی حالت پر بھی قابونہیں رہتا۔یہ محض فضل و احسانِ خدا وندی تھا اور حضرت اقدس علی سلام کا فیضانِ صحبت و تربیت کہ حضرت مفتی صاحب نے جماعت کو ایک ہاتھ پر اکٹھا رکھنے کی اہمیت کو محسوس کیا اور فوری طور پر ایک درخواست حضرت مولوی نورالدین صاحب کے نام لکھی۔یہ اُسی طرح کے غم واندوہ کا وقت تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم پر گزرا تھا۔اُس وقت اُمت کا پہلا اجماع وفات مسیح علیہ السلام پر ہوا تھا اور وفات مسیح موعود علیہ السلام پر پہلا اجماع خلافت کے اجراء پر ہوا۔تاریخ کے اس سنگ میل پر حضرت مفتی صاحب کا مکتوب اُن کے قلبی اخلاص اور مصلحت