حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 115
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ ذکرِ حبیب کم نہیں وصل حبیب سے 115 یہ مقولہ صداقت کی حقیقت تک پہنچتا ہو یا نہ پہنچتا ہومگر اس میں شک نہیں کہ ذکرِ حبیب انسان کو وصل حبیب تک کھینچ کے لے جاتا ہے۔۔۔جن لوگوں کو سیح موعود کی صحبت کا موقع نہیں ملا وہ اس کے جانشین کی صحبت سے فائدہ اٹھا ئیں۔ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھنا انسان کے دل کو پاک کرتا ہے۔اس کی عقل کو بڑھاتا ہے۔اس کے تقوی میں ترقی ہوتی ہے۔گناہ بخشے جاتے ہیں اور روحانی قوی ترقی پکڑتے ہیں۔۔۔جبکہ میں نے پہلے پہل یہاں سکونت اختیار کی تو ابتدا حضرت کے رہائش کے مکان کے اندر ہی مجھے بھی ایک جگہ ملی۔ایک دن حضرت عورتوں کو وعظ کر رہے تھے۔اور یہ سبب زیادہ قریب ہونے کے مجھے بھی آپ کی دلر با آواز پہنچ رہی تھی انسان کی پیدائش اور پھر لا زمی موت اور رجوع الی اللہ کا ذکر بہت ہی دلکش پیرایہ اور سہل طریقہ سے عورتوں کے ذہن نشین کر رہے تھے۔تو اس مضمون کو آپ نے عورتوں کی سمجھ کے مطابق ایک تمثیل میں بیان کیا۔فرمایا: دیکھو جب کسی کے گھر میں لڑکی پیدا ہوتی ہے۔تو وہ اس کو پالتا ہے اور اس کی تربیت کے تمام سامان مہیا کرتا ہے۔اس پر بہت سا خرچ کرتا ہے اور وہ اسے بہت پیاری ہوتی ہے لیکن جلد ایک وقت آتا ہے کہ والدین باوجود اس الفت اور محبت کے جو انہیں اس لڑکی کے ساتھ ہے اسے اپنے گھر سے نکالنے کی تجاویز سوچتے ہیں اور اپنے پاس سے بہت سا روپیہ خرچ کر کے بچشم گریاں اس پیاری بچی کو اپنے گھر سے نکال کر دوسرے گھر میں بھیج دیتے ہیں۔یہ مجبوری انہیں کیوں پیش آئی صرف اس واسطے کہ اس لڑکی میں خدا تعالی نے ایک جو ہر رکھ دیا ہے جو شگفتگی حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ اس گھر کو چھوڑ کر دوسرے سے نہ ملے۔اسی طرح انسان میں ایک جو ہر رکھا گیا ہے جس کی شگفتگی عالم ثانی میں ہوسکتی ہے اور یہ عالم صرف اس کی تیاری کا ہے اس گھر کو انسان اپنا گھر نہ سمجھے ہاں تیاری کرے۔قابلیت پیدا کرے، ہنر سیکھے تا کہ خاوند حقیقی کے پاس