حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 103
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ ہو جہاں سے نہ تو میں زندہ واپس آسکوں اور نہ میرا جنازہ آسکے یا اگر میں قادیان میں ہی وفات پاؤں لیکن مقبرہ کے ناظم مجھ میں تمام شرائط کامل مومن اور خدا کے راہ میں جاں فشانی کرنے والا ہونے وغیرہ کے نہ سمجھیں تو یادر ہے کہ متذکرہ بالا وصیت سارے ترکہ کے دینے کی اس شرط کے ساتھ میری طرف سے مشروط نہیں کہ میں اس مقبرہ بہشتی میں دفن کیا جاؤں بلکہ میرا تر کہ ہر حال میں اس راہ میں دیا جاوے۔خواہ میں کسی جگہ دفن کیا جاؤں۔میں نہیں جانتا کہ میں کہاں فوت ہوں گا کیسا موقع پیش آئے گا۔نیز اس مقبرہ میں دفن ہونے کی جو بھی شرط ہے یعنی خدا کے ساتھ جانفشانی کا تعلق رکھنا۔سو میں اپنے آپ کو ایک ناکارہ اور نابکار اور بے عمل اور بہت عاجز انسان پاتا ہوں۔پس میں اس مقبرہ میں جگہ پانے کی بات کو رب کی ستاری اور غفاری اور اس کے فضل و احسان پر چھوڑتا ہوں۔اور کوئی ایسا خیال نہ کرے کہ میں نے اپنے پسماندگان کے واسطے کچھ نہیں چھوڑا بلکہ میرا ایمان اور یقین ہے کہ میں نے ایسا کرنے سے ان کے واسطے سب سے بہتر خبر گیر اور بہت اعلیٰ جائداد چھوڑی ہے۔میں اپنے پس ماندگان کے متعلق کسی اور طریقہ میں تشفی نہیں پاتا اور میں اپنے غفور الرحیم سمیع علیم رب سے بہت دُعائیں مانگا کرتا ہوں لیکن سب سے زیادہ میری ٹھنڈک اس دُعا میں ہے کہ میری جان و مال اولا د اور ہر شے جو میرے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور ہر نفس جو میرے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس کی راہ میں خرچ آوے اور اسی نیت سے میں درود شریف زیادہ پڑھتا ہوں۔اور محمد کے لفظ میں اپنے مسیح کو بھی دیکھتا ہوں اور پھر آل محمد میں بھی اپنے امام کو مراد پاتا ہوں۔اللھم صلی على محمد و على آل محمد و بارك وسلم انك حميد مجيد - - ربنا اغفر لنا ذنوبنا و كفر عنا سياتنا وتوفنا مع الابرار۔آمين۔103