حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 59
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ کروں تاکہ کسی کی دلی دُعا میرے واسطے بھی رحمت کا موجب ہو جائے۔“ نوجوان عاشق، قابل تقلید قابل فخر 59 6 جنوری 1900ء کو حضرت مولا نا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے ایک مضمون لکھا جس میں حضرت اقدس علیہ السلام کی صحبت سے استفادہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو بطور مثال پیش کیا۔مضمون سے آپ کی سیرت پر خوب روشنی پڑتی ہے: ایک مفتی صادق صاحب کو دیکھتا ہوں (سلمہ اللہ وبارك عليه وفیہ) کہ کوئی چھٹی مل جائے یہاں موجود مفتی صاحب تو نقاب کی طرح اس تاک میں رہتے ہیں کہ کب زمانہ کے زور آور ہاتھوں سے کوئی فرصت غصب کریں اور محبوب اور مولی کی زیارت کا شرف حاصل کریں۔اے عزیز برادر! خدا تیری ہمت میں استقامت اور تیری کوششوں میں برکت رکھ دے اور تجھے ہماری جماعت میں قابلِ اقتداء اور قابل فخر کارنامہ بنائے۔حضرت صاحب نے بھی فرمایا: لاہور سے ہمارے حصے میں تو مفتی صادق صاحب ہی آئے ہیں۔میں حیران ہوں کہ کیا مفتی صاحب کو کوئی بڑی آمدنی ہے؟ اور کیا مفتی صاحب کی جیب میں کسی متعلق کی درخواست کا ہاتھ نہیں پڑتا اور مفتی صاحب تو ہنوز نو عمر ہیں اور اس عمر میں کیا کیا اُمنگیں نہیں ہوا کرتیں پھر مفتی صاحب کی یہ سیرت اگر عشق کامل کی دلیل نہیں تو اور کیا وجہ ہے کہ وہ ساری زنجیروں کو توڑ کر دیوانہ وار بٹالہ میں اتر کر نہ رات دیکھتے ہیں نہ دن، نه سردی نہ گرمی نہ بارش ، نہ اندھیری۔آدھی آدھی رات کو یہاں پیادہ پہنچے ہیں جماعت کو اس نوجوان عاشق کی سیرت سے سبق لینا چاہیے۔“ (الحکم 24 جنوری 1900 صفحہ 7)