حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 268 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 268

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 268 نہ فرمائیں مجھے کوئی بوجھ محسوس نہیں ہو رہا۔لیکن حضرت مفتی صاحب مرحوم۔۔۔نے اصرار کیا اور جب دیکھا کہ بچی محض میرے احترام کی وجہ سے انکار کر رہی ہے تو حکیمانہ انداز میں فرمایا: دیکھو بیٹا چھوٹے بڑوں کی بات مانا کرتے ہیں۔اس پر رضیہ مجبور ہو گئی کہ آپ کا حکم مانے۔چنانچہ اس نے سبزی کا تھیلا مفتی صاحب کی طرف بڑھا دیا۔اس پر حضرت مفتی صاحب نے فرمایا۔نہیں بیٹا میں بڑا ہوں اور تم چھوٹی ہو اس لئے چھوٹی چیز تم اُٹھاؤ اور بڑی مجھے اُٹھانے کے لئے دو۔اور یہ کہہ کر سات آٹھ سیر کی آٹے کی پوٹلی رضیہ کے سر سے لے لی اور قریباً چارسو گز کے فاصلہ تک جب عزیزہ اپنے مکان کے دروازہ تک پہنچ گئی۔آپ یہ بوجھ اُٹھا کر ساتھ چلتے رہے اور راستہ بھر مشفقانہ اور حکیمانہ انداز میں باتیں کرتے رہے۔مثلاً پوچھا بیٹی تمہارا نام کیا ہے۔جب اس نے نام رضیہ سلطانہ بتایا تو بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔میری بیٹی کا نام بھی رضیہ سلطانہ ہے۔وہ بھی میری بیٹی ہے اور تم بھی میری بیٹی ہو۔حضرت مفتی صاحب مرحوم کے اخلاق حسنہ کی سینکڑوں مثالوں میں سے ایک یہ مثال ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسیح محمدی کا یہ روحانی فرزند اپنے حبیب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت اور آپ کے انفاس قدسیہ سے کس قدر فیض یاب تھا۔اللھم صل على محمد وعلى آل محمد و على خلفاء محمد وبارك وسلم انك حميد مجيد۔بیڑیاں توڑ کے چلتے ہوئے یاران کہن (الفضل 25 جنوری 1957ء) حضرت حافظ سید مختار احمد شاہجہانپوری نے 19 فروری 1957ء کو اپنے سکونتی مقام جو دھامل بلڈنگ لاہور کے بالائی کمرے میں باوجود بہت علیل و ناتواں ہونے کے اپنے 65 سال کے رفیق طریق حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی بہت سی خوبیاں احباب کو سنا ئیں۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مرحوم کو کیسی محبت و عقیدت تھی اور آپ کے اخلاص واطاعت کا پا یہ کتنا بلند تھا اور حضور