حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 25
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 25 لائے فرمایا۔مولوی صاحب نے اپنے خط میں آپ کی بہت تعریف کی ہے۔مجھ سے پوچھا کیا آپ کھانا کھا چکے ہیں۔تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر اندرون خانہ تشریف لے گئے۔اُس وقت مجھ سے پہلے صرف ایک اور مہمان تھا۔(سید فضل شاہ صاحب مرحوم ) اور حافظ شیخ حامد علی صاحب مہمانوں کی خدمت کرتے تھے اور گول کمرہ مہمان خانہ تھا۔اس کے آگے جو تین دیواری بنی ہوئی ہے ، اُس وقت نہ تھی۔رات کے وقت اس گول کمرہ میں عاجز راقم اور سید فضل شاہ صاحب سوئے۔نماز کے وقت حضرت صاحب ( بیت ) مبارک میں جس کو عموماً چھوٹی (بیت) کہا جاتا ہے تشریف لائے۔آپ کی ریش مبارک مہندی سے رنگی ہوئی تھی۔چہرہ بھی سرخ اور چمکیلا۔سر پر سفید بھاری عمامہ۔ہاتھ میں عصا تھا۔دوسری صبح حضرت صاحب زنانہ سے باہر آئے۔باہر آ کر فرمایا کہ سیر کو چلیں۔سید فضل شاہ صاحب (مرحوم) حافظ حامد علی صاحب (مرحوم) اور عاجز راقم ہمراہ ہوئے۔کھیتوں میں سے اور بیرونی راستوں میں سے سیر کرتے ہوئے گاؤں کے شرقی جانب چلے گئے۔اس پہلی سیر میں میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ گناہوں میں گرفتاری سے بچنے کا کیا علاج ہے؟ فرمایا: موت کو یا درکھنا۔جب آدمی اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اُس نے آخر ایک دن مر جانا ہے تو اس میں طول امل پیدا ہوتا ہے۔لمبی لمبی اُمیدیں کرتا ہے کہ میں یہ کرلوں گا اور وہ کرلوں گا اور گناہوں میں دلیری اور غفلت پیدا ہو جاتی ہے۔سید فضل شاہ صاحب مرحوم نے سوال کیا کہ یہ جولکھا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام اُس وقت آئے گا جبکہ سورج مغرب سے نکلے گا۔اس کا کیا مطلب ہے۔فرمایا: یہ تو ایک طبعی طریق ہے کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے۔مغرب میں غروب ہوتا ہے۔اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔مراد اس سے یہ ہے کہ مغربی ممالک کے لوگ اس زمانہ میں دین اسلام کو قبول کر نے لگ جائیں گے۔چنانچہ سنا گیا ہے کہ لور پول میں چند ایک انگریز مسلمان ہو گئے ہیں۔جو کچھ