حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 160 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 160

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 160 کی تقریب میں دعوت الی اللہ کا سلسلہ جاری رہا بعض غیر مسلم مدعوئین نے بہت اچھا اثر لیا۔(الفضل 29 اگست 1915ء) ظفر وال سے واپسی پر چانگڑیاں اور سمبڑیال میں بھی تقاریر کیں۔پھر حضرت خلیفتہ المسیح کے ارشاد پر منصوری پھر سر انواں ضلع فیروز پور پہنچے جہاں 28, 29 اگست کو مباحثہ طے ہوا تھا۔فریقِ مخالف کی غیر سنجیدگی سے مباحثہ کی صورت تو نہ بنی تاہم آپ نے موقع سے فائدہ اُٹھا کر پنجابی زبان میں عمدگی سے جماعت کا تعارف کروایا۔ستمبر میں حضرت خلیفہ اسیح نے آپ کو انگریزی ترجمہ القرآن کی طباعت کے سلسلے میں مدراس بھیجا۔راستے میں دو گھنٹے متھرا قیام کے دوران ایک اجنبی فخر الدین کو پیغام حق دیا جس نے احمدیت قبول کر لی۔اس سفر میں بھرت پور متھرا وغیرہ میں آپ نے دیکھا کہ ان علاقوں میں احمدیت کا پیغام ہی نہیں پہنچا۔آپ کی جنوں خیز طبیعت میں تموج پیدا ہوا اور اضطرار نے ایک دُعا کی صورت اختیار کر لی تحریر فرماتے ہیں: ”میرا جی چاہتا ہے کہ کوئی عالی ہمت جو ان ایسا اُٹھے جو جرس ہاتھ میں لئے ہراک شہر اور گاؤں کے گلی کوچوں میں منادی کرتا پھرے کہ مسیح موعود علیہ السلام اور مہدی موعود علیہ السلام آ گیا ہے۔اے سننے والو سنو! اور اللہ کے فرستادہ نبی کو قبول کرو تا کہ عذابوں سے بچو اور آسمانی برکات کے وارث بنو۔اس کام کے لئے مجذوب صفت کے لوگ ہونے چاہئیں جو منادی کرتے ہوئے شہروں کے شہر اور ملکوں کے ملک پھر نکلیں ان کے پاس مختصر اشتہار ہوں جو لوگوں میں تقسیم کر دیں۔خود نہ کریں صرف خبر پہنچا دیں اور مزید حالات دریافت کرنے کے لئے قادیان کا پتہ بتلاتے ہوئے جائیں جہاں رات آئی سو گئے جو ملا کھا لیا کسی مشاہرے کے خواہش مند نہ ہوں۔وہ مسیح موعود علی اسلام کے مجذوب اور دیوانے ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کو ہر جگہ رزق دے گا اور ان کے لیے سب سامان مہیا کر دے گا اور ان کا حافظ و ناصر ہوگا۔“ (الفضل 17اکتوبر 1915ء)