حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 161
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ آپ سورہے ہیں اُدھر امام مہدی تشریف لے آئے ہیں 161 پونا میں خدام ہند کالج میں مسیح و مہدی دوراں کا تعارف کرا کے اسٹیشن کی طرف جارہے تھے کہ ایک مسجد نظر آئی۔گاڑی روک کر اُترے یہ بھنڈارشاہ کی مسجد کہلاتی تھی۔امام مسجد صاحب سو رہے تھے۔آپ نے آہستہ سے سلام کہا مگر وہ نہ اُٹھے۔پھر ذرا زور سے سلام کیا تو آنکھوں کھولیں۔مفتی صاحب نے فوراً کہا آپ سو رہے ہیں اُدھر مہدی تشریف لے آئے ہیں۔اس نے سلام کا جواب دیا اور کہا اچھا اچھا اور پھر سو گئے۔مفتی صاحب نے پھر اٹھا یا اور کہا کہ میں عرض کر رہا ہوں کہ حضرت امام مهدی مسیح موعود علیہ السلام قادیان پنجاب میں آگئے ہیں اور آپ سورہے ہیں۔میں وہاں سے آیا ہوں اور آپ کو ان کی خبر دے رہا ہوں۔انہوں نے آنکھیں کھولیں کہا امام مہدی آ گئے؟ اچھا بہت اچھا رات سوئے نہیں تھے اب نیند آ رہی ہے۔یہ کہہ کر وہ پھر سو گئے۔تیسری بار آپ نے پھر جگایا اور بتایا کہ اُٹھو بھٹی امام مہدی آگئے ہیں اُن کو قبول کرو یہ سونے کا وقت نہیں۔انہوں نے پھر آنکھیں کھولیں اور کہا ہاں ہاں کیوں نہیں امام مہدی آگئے نیند بہت آرہی ہے۔اس طرح ان نیند کے ماتوں کو پیغام حق دے کر آپ آگے روانہ ہو گئے۔رائے پور کے اسٹیشن پر گاڑی کے انتظار میں چند گھنٹے رکنا پڑا۔انتظار گاہ میں موجود چند آدمیوں کو دعوت الی اللہ کی جن میں سے دو نے احمدیت قبول کر لی۔اسی طرح راستے میں قیام کی مناسبت سے دعوت الی اللہ کرتے ہوئے مدراس پہنچے۔اُسی دن شام کو وکٹوریہ ہال مدر اس میں ایک جلسے میں مسیح کی آمد ثانی کی خبر دی۔19 را کتوبر کو آپ ٹرام پر سفر کر رہے تھے۔جگہ کم ہونے کی وجہ سے آپ ایک طرف کھڑے ہو گئے اور انگریزی میں ٹرام کے مسافروں کو مخاطب کیا: ” صاحبان میرے واسطے بیٹھنے کی جگہ نہیں۔آپ صاحبان کے سامنے کھڑا ہوں۔اس سے فائدہ اُٹھا کر میں آپ کو کچھ سنانا چاہتا ہوں۔سنئے کہ میں پنجاب کا رہنے والا ہوں میرے مقام رہائش کا نام قادیان ہے اور میں آپ کو خوشخبری سناتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ