حضرت مرزا ناصر احمد — Page 31
۳۱ میں طالب علموں کی پوری پوری حوصلہ افزائی فرماتے کھیلیں۔مباحثے اور مشاعر سے باقاعدگی سے ہوتے اور ملک بھر کے کالج ان میں شامل ہوتے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ حسین تدبیر عطا فرمایا تھا۔بات اسی اندا نہ سے کرتے کہ حالات کا پانسہ ہی پلٹ دیتے۔دشمن دوست بن جاتے اور سنگین سے سنگین معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہو جاتا۔جب آپ پرنسپل تھے ایک مرتبہ ٹی آئی۔کالج کا کشتی رانی کا مقابلہ اسلامیہ کالج سے تھا۔فضاء میں TENSION (تناؤ) تھی۔اسلامیہ کالج کے پرنسپل نے اعلان کیا کہ وہ اپنی ٹیم کوئی۔آئی کالج سے مقابلہ جیتنے کی صورت میں ستور و پیہ انعام دیں گے۔کوئی جلد باز انسان ہوتا تو اس کا جواب اس طرز پر ہوتا کہ اگر میری ٹیم جیتے گی تو میں اُسے اتنا انعام دوں گا۔لیکن آپ نے اعلان فرما یا کوئی۔آئی۔کالج کے پرنسپل کی طرف سے بھی اسلامیہ کالج کی ٹیم کو جیتنے کی صورت میں منتور و پیہ انعام دیا جائے گا۔یہ اعلان کرنا تھا کہ فضائیں سے ساری کدورت کا فور ہو گئی اور دوستانہ ماحول میں مقابلہ ہوا۔ٹی۔آئی۔کالج کے طالبعلاوی نے زیادہ جوش کے ساتھ مقابلہ کیا اور خُدا نے انہیں فتح عطا فرمائی کشتیوں کی اس دوڑ کا واقعہ بھی آپ نے لطف لیتے ہوئے مجھے سُنایا۔ہوسٹل کے طالب علموں کا آپ بالخصوص خیال رکھتے۔اگر کوئی طالب علم بیمار پڑ جاتا تو سارا سارا وقت اس کے پاس بیٹھتے۔علاج کی مکمل سہولت فراہم کرتے اور خرچ کی قطعا پر واہ نہ کرتے۔ایک بار مجھ سے فرمانے لگے کہ میرا تجربہ کالج کے پرنسپل کا بھی ہے نا۔ہوسٹلائٹس HOSTELITES