حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 30 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 30

تعلیم الاسلام کالج ابھی لاہور میں ہی تھا کہ حکومت نے اسکی عمارت اسلامیہ کالج کو دینے کا فیصلہ کیا۔کالج کے ایک استاد گھرائے ہوئے آپ کے پاس آئے لیکن آپ نے کسی قسم کی گھبراہٹ کے بغیر اور انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔کہ گھبرائیں نہیں اس میں بھی خدا تعالٰی کی حکمت ہوگی۔شاید یہ امر ہمارے کالج کے ربوہ جانے کا سامان ہی ہو اور شاید اللہ تعالیٰ کے علم میں جماعت کا مفاد اسی میں ہو کہ ہمارا کالج اب ربوہ چلا جائے۔مت گھیرائیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جو ہمارے حق میں مفید ہوگا۔چنانچہ 1990 میں ٹی۔آئی کالج ربوہ منتقل SHIFT ہو گیا۔اور وقت نے ثابت کیا کہ حضور کی حسن ظنی اپنے رب پر بالکل درست تھی۔ربوہ میں کالج کی عمارت کی تعمیر آپ نے اپنی نگرانی میں کہ دائی۔اس کی تعمیر کا واقعہ بھی آپ نے مجھے اپنی زندگی کے واقعات سناتے ہوئے سنایا۔آپ کو حضرت مصلح موعود نے ڈیڑھ لاکھ روپے کی رقم اس کام کے لئے عطا فرمائی۔آپ نے اللہ تعالی پر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے اس کی تعمیر کاکام شروع کمہ دا دیا۔گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں چھتری لئے سارے کام کی نگرانی خود فرما تھے۔اس عرصہ میں چونکہ آپ اکیلے ربوہ میں تھے اس لئے لنگر خانہ حضرت مسیح موعود سے کھانا کھاتے رہے اور یوں دن رات کی محنت کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک عظیم الشان عمارت کا لج کے لئے تیار ہو گئی۔آپ کے زیر سر پرستی کالج نے ہر میدان میں نام پیدا کیا۔اعلیٰ تعلیمی معیار اور اخلاقی اقدار کے لئے کالج نے خاص شہرت پائی۔غیر نصابی سرگرمیوں