حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 151 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 151

۱۴۳ POWER کے ذریعے ادا کی اور اب اوپر بھی صرف قوتِ ارادی سے ہی سیڑھیاں چڑھ آیا ہوں۔میں نے پگڑی اور سوٹی پکڑ کہ کوئی اور ا چکن اتمر دا کہ ان سے کہا کہ آپ فورا کیٹ جائیں۔پھر میں نے پوچھا کہ آپ کا بلڈ پریشر چیک کر لوں۔فرمانے لگے ہاں ! بازو پسینے سے شرابور تھے اور قمیض اسکی بالکل تر تھی۔بلڈ پر یشیر اس وقت معمول سے بہت زیادہ تھا غالباً پڑا تھا۔عام طور پر حضور کا بڑا ہوتا تھا۔اور منقبض کی رفتار تیز تھی۔ڈاکٹر نوری آئے تو انہوں نے ای سی جی لینا چاہا۔پہلے تو آپ نے انکار کر دیا۔فرمانے لگے : " مجھے پتہ ہے میرا دل بالکل صحیح ہے کہ 4۔دراصل میں نے دیکھا تھا کہ حضور کی طبیعت یہ بات قبول کرنے کے لئے بالکل تیارہ نہ تھی کہ ان کے دل کو کوئی تکلیف ہے۔یہی وجہ تھی کہ جب انہیں دل کی تکلیفت ہوئی تو میرا دل بالکل نہیں چاہ رہا تھا کہ میں حضور کو یہ بتا دوں۔میرا خیال تھا کہ آپ یہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب آپ کو ڈاکٹر نے صاف صاف سب کچھ بتا دیا تو آپ نے کمال حو صلے کے ساتھ بغیر کسی گھیر اہٹ کا اظہار کئے اسے قبول کر لیا۔چنانچہ اس دن آپ نے پہلے تو ای سی۔جی کروانے میں تامل کیا۔لیکن پھر فرمانے لگے۔اچھا تم لوگ چاہتے ہو تو کروا لیتا ہوں تا کہ تم اپنا شک دور کر لو۔چنانچہ ڈاکٹر نوری صاحب نے ای سی بھی لیا۔لیکن اس پر کوئی خاص بات نظر نہ آئی۔کچھ دیر آرام کرنے سے اور کھانا کھانے کے بعد (جو کہ اس وقت حضور نے اپنے کمرے میں ہی کھایا ، طبیعت میں بہتری محسوس کی۔اس روز دوپہر کا کھانا حضور نے معمول سے کم کھایا تھا۔اور شام کی چائے پیر SNACKS بھی کم لئے تھے۔اس لئے