حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 119 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 119

شرم بھی آتی جب ہوسٹل میں آتے جاتے سفروں کے دوران ہر چیز کا گوڈر بنا کر بیگ میں ٹھونسا اور چل پڑے۔اپنی دوائیں خود پیک کیا کرتے۔اتنی اچھی پیکنگ میں نے کبھی نہ دیکھی تھی۔کمرے میں چلتے پھرتے، اپنے چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے میں انہیں دیکھتی اور لطف اندوز ہوتی۔کیونکہ ہر حرکت میں ہر کام میں خوبصورتی مخفی۔ایک روز میں نے سنگھار میز کو صاف کرتے ہوئے عطروں کی شیشیوں کی ترتیب ذرا بدل دی۔فرمانے لگے دیکھو آج تم نے میرے دس سیکنڈ ضائع کہ دیئے۔مجھے اپنا عطر ڈھونڈنے میں فالتو دس سیکنڈ لگے۔ترتیب سے خیال آیا کہ حضور اپنی چھوٹی چھوٹی چیزوں اور ہر دوائی کو ایک خاص ترتیب سے رکھنے کے عادی تھے۔آخری علالت میں بھی لیٹے ہوئے مجھ سے فرماتے کہ میری فلاں دوائی فلاں لائن میں اتنے نمبر پر ہے۔وہ دے دو۔میں بہت حیران ہوتی کہ اتنی شدید بیماری میں بھی حضور کو پورا علم ہونا تھا کہ اپنی کونسی دوائی کس ترتیب سے کسی جگہ رکھی ہوئی ہے۔دس پندرہ منٹ بھی اگر کسی کام کے دوران فارغ ملتے تو انہیں ضائع نہ فرماتے اور اس دوران اپنی ڈاک کا کچھ حصہ دیکھ لیتے۔ڈاک دیکھنے کے دوران خطوط لکھنے والوں کے لئے دُعا بھی فرماتے جاتے۔آخری دفعہ اسلام آباد میں ہی ایک دن شام کے وقت ڈاک ملاحظہ فرما رہے تھے۔غالباً وہ بہ مئی کی شام تھی۔جب آپ ڈاک دیکھ رہے ہوتے تو مجھ سے فرماتے کہ اس دوران مجھ سے کوئی بات ز کرتا۔اس وقت آپ طالب علموں کی ڈاک کی فائل دیکھ رہے تھے۔کوئی بات